منگل, فروری 17, 2026
ہومپاکستانقومی عدالتی کمیٹی لاپتہ افراد اور اہم مسائل کا جائزہ اگلے ماہ...

قومی عدالتی کمیٹی لاپتہ افراد اور اہم مسائل کا جائزہ اگلے ماہ لے گی: چیف جسٹس آفریدی
ق

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ فی الحال مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے کیس شیڈولنگ کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ سپریم کورٹ تیزی سے پیپر لیس نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق کیس رجسٹریشن، ریکارڈز اور فیصلوں کی نقول آن لائن دستیاب ہیں اور عدالت جلد مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل ہوگی۔ ای سروسز متعارف کرائی جاچکی ہیں جبکہ سائلین کے لیے فیسلیٹیشن سینٹر یکم اکتوبر سے مکمل طور پر فعال ہوگا۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اب تک ججوں کے خلاف 64 شکایات نمٹا دی ہیں، 72 زیر غور ہیں جبکہ 65 کیسز التوا میں ہیں۔ باقی کیسز اسی ماہ ججوں میں تقسیم کردیے جائیں گے اور "فرسٹ کم، فرسٹ سروسڈ” اصول پر ہی سماعت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ "61 ہزار فائلوں کی ڈیجیٹل اسکیننگ جاری ہے جو چھ ماہ میں مکمل ہوگی۔ کیسز کی شیڈولنگ بالآخر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہوگی مگر فوری طور پر اس پر عملدرآمد ممکن نہیں۔”

جسٹس آفریدی نے واضح کیا کہ عدالتی چھٹیوں کے دوران ججوں کو چھٹی کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں، البتہ عام تعطیلات سے ہٹ کر پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان اور دیگر ججوں کی سیکیورٹی کم کردی گئی ہے، ریڈ زون میں پروٹوکول محدود کیا گیا ہے اور انہوں نے اپنی سیکیورٹی گاڑیاں 9 سے کم کرکے صرف 2 پر کر دی ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انہوں نے دور دراز علاقوں کا دورہ کیا تاکہ عدالتی نظام کا جائزہ لیا جا سکے اور ہدایت دی کہ پورے ملک کی عدلیہ کے مسائل حل کیے جائیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین طاہر نصراللہ نے چیف جسٹس کی سائلین کے لیے حالیہ سہولیات کو سراہا، جن میں دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ و سولر پاور کی فراہمی اور ویڈیو لنک سماعتوں کا عملی آغاز شامل ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راؤف عطا نے بھی عدالتی اصلاحات، الیکٹرانک فائلنگ، ویڈیو لنک سماعتوں اور فیسلیٹیشن سینٹر کے قیام کو سراہا، تاہم کیس شیڈولنگ میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ عدلیہ کی اولین ترجیح انصاف کی فراہمی ہے اور آئین و قانون پر عمل سے شفافیت یقینی بنتی ہے۔ انہوں نے زیر التوا مقدمات میں کمی کو سراہا اور عدالتی کارکردگی بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی و AI کے استعمال کی حمایت کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین