راولپنڈی، 8(مشرق نامہ) ستمبر (اے پی پی): پاکستان کا پہلا تھائیرائیڈ آئی ڈیزیز کلینک الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں قائم کر دیا گیا ہے، جو ایک ایسی بیماری کے لیے مربوط علاج فراہم کرے گا جس سے لاکھوں افراد متاثر ہیں لیکن اکثر اس کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی۔
کلینک کا افتتاح الشفا ٹرسٹ کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان نے کیا۔ یہ کلینک ماہر امراض چشم اور اینڈوکرائنولوجسٹ کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کرتا ہے، جو زیادہ تر اسپتالوں میں میسر نہیں ہے۔
رحمت خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ کلینک ان مریضوں کو ہدف بنائے گا جو تھائیرائیڈ سے متعلق آنکھوں کی پیچیدگیوں میں مبتلا ہیں اور جنہیں اکثر علاج کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بروقت تشخیص اور باقاعدہ معائنہ کو نہایت اہم قرار دیا تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ان کے مطابق پاکستان کی 3 سے 5 فیصد آبادی تھائیرائیڈ بیماری میں مبتلا ہے، جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ ان میں سے تقریباً 25 سے 40 فیصد مریض آنکھوں کی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ملک میں تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ افراد اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ لاہور کی ایک تحقیق کے مطابق 12 سے 13 فیصد آبادی تھائیرائیڈ کی خرابی میں مبتلا ہے۔
رحمت خان نے کہا کہ پبلک سیکٹر میں علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث مریض مہنگے پرائیویٹ علاج پر مجبور ہیں، جبکہ بہت سے لوگ علاج ہی نہیں کرواتے۔
ڈاکٹر طیب افغانی، ہیڈ آف آربٹ اینڈ اوکولوپلاسٹک ڈیپارٹمنٹ، نے بتایا کہ علاج کے اخراجات بلند ہیں۔ بعض مریضوں کو 1.5 سے 2 لاکھ روپے کی سرجری درکار ہوتی ہے جبکہ عام ادویات 5 سے 7 ہزار روپے تک کی ہیں۔ تازہ ترین دوا صرف امریکہ میں دستیاب ہے جس کی قیمت 16 سے 17 ہزار ڈالر ہے اور پاکستان میں دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر تنظیموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے جدید علاج اور مہنگی ادویات کو پاکستان میں متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید کہا کہ جغرافیائی عدم مساوات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مریض تو خصوصی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے، لیکن بلوچستان، اندرون سندھ اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بنیادی علاج تک کئی گھنٹے کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
پروفیسر افغانی نے بتایا کہ الشفا ٹرسٹ ٹیلی میڈیسن خدمات اور موبائل کلینکس کے ذریعے پسماندہ علاقوں میں رسائی بڑھائے گا، جہاں علاج اور آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ شہروں سے باہر معالجین اور ہیلتھ ورکرز کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے، جس سے تشخیص کی شرح بہتر اور علاج کے معیار میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سگریٹ نوشی ایک بڑا خطرہ ہے جو بیماری کو شدید بنا دیتا ہے، لیکن عوام میں اس حوالے سے آگاہی کم ہے۔ اسی لیے عوامی مہمات چلائی جائیں گی تاکہ کمیونٹیز کو خطرات اور بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق، تھائیرائیڈ آئی ڈیزیز ہر سال فی 100,000 میں سے 5 سے 16 نئے مریضوں کو لاحق ہوتی ہے۔ خواتین میں اس کا امکان مردوں کی نسبت 3 سے 5 گنا زیادہ ہے۔ امریکہ میں ہر 100,000 میں تقریباً 250 افراد متاثر ہیں، یورپ میں یہ تعداد 90 سے 155 اور ایشیا میں 100 سے 300 فی 100,000 ہے۔ تقریباً 20 فیصد کیسز درمیانی یا شدید علامات کے ہوتے ہیں، جبکہ باقی ہلکے درجے کے ہوتے ہیں۔ یہ مرض زیادہ تر 35 سے 60 سال کی عمر کے بالغوں میں پایا جاتا ہے، جبکہ بچوں میں شاذونادر ہی ہوتا ہے۔

