لندن (مشرق نامہ) – لندن میں ہفتے کے روز ممنوعہ گروپ فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے پر 425 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں پارلیمنٹ اسکوائر میں ہونے والے مظاہرے کے دوران کی گئیں۔
فلسطین ایکشن کو جون میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس وقت کالعدم قرار دیا گیا تھا جب اس کے کارکنان نے ایک فوجی اڈے میں گھس کر دو طیاروں پر سرخ رنگ اسپرے کر کے اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ پابندی کے بعد سے گروپ کے حامی کئی مظاہرے کر چکے ہیں۔
ہفتے کے روز کارکنان نے پارلیمنٹ اسکوائر پر فلسطینی پرچم تھامے اور "نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں” جیسے نعروں والے بینرز اٹھا کر احتجاج کیا۔ پولیس نے کھڑے اور بیٹھے مظاہرین کو حراست میں لیا، جن میں وہیل چیئر پر موجود متعدد کارکن بھی شامل تھے۔ کچھ مظاہرین کی پولیس اہلکاروں سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔
پولیس کی ڈپٹی اسسٹنٹ کمشنر کلیئر اسمارٹ نے کہا کہ "آج فرائض کی انجام دہی کے دوران ہمارے اہلکاروں کو مظاہرین نے گھونسے مارے، لاتیں رسید کیں، تھوکا اور ان پر اشیا پھینکی گئیں۔”
مظاہرین شام تک پارلیمنٹ اسکوائر پر موجود رہے۔ احتجاج کا اہتمام کرنے والے گروپ ڈیفینڈ آور جیوریز نے اسے "برطانوی تاریخ میں سب سے بڑے شہری نافرمانی کے مظاہروں میں سے ایک” قرار دیا۔

