منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرانسان ساختہ آفت

انسان ساختہ آفت
ا

تحریر: نصیر میمن

شدید بارشیں ہمارے میدانی اور کوہستانی علاقوں کے لیے کوئی انوکھی بات نہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے میں کئی بار 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوچکی ہے۔ "موسمیاتی تبدیلی”، "بادل پھٹنا” اور "شہری سیلاب” جیسے الفاظ محض حالیہ برسوں میں میڈیا کی لغت کا حصہ بنے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیلابی آفات، لینڈ سلائیڈز، پہاڑی ندی نالوں کے طوفانی بہاؤ اور ہولناک خشک سالیاں دہائیوں سے انسانی جانوں کے ضیاع اور جائیداد، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ تاہم، چیختا چلاتا میڈیا اور بے قابو سوشل میڈیا نے عوام میں غیر ضروری خوف اور وہم پھیلا دیا ہے۔ شور شرابے نے ہمیں ان آفات کے بنیادی اسباب پر سنجیدہ بحث سے روک رکھا ہے۔ محض موسمیاتی تبدیلی اور بادل پھٹنے کی رٹ لگانے سے تباہ کن واقعات نہیں رک سکتے۔

تین بنیادی انسانی عوامل نے ان ماحولیاتی و موسمی واقعات کی شدت میں اضافہ کیا ہے:

  • بے لگام جنگلات کی کٹائی، جس نے پہاڑوں کو سبز تحفظ سے محروم کردیا
  • پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے بے تحاشا تجاوزات
  • اور ماحولیاتی حقیقتوں سے بے خبر انفراسٹرکچر

یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جو بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ اگست کا دوسرا نصف صوبوں اور گلگت بلتستان کے لیے انتہائی المناک ثابت ہوا۔ صرف ایک ہفتے میں ہلاکتوں کی تعداد پچھلے پانچ ہفتوں کے مجموعی جانی نقصان سے کہیں زیادہ رہی۔

ان علاقوں کی حالیہ تباہی چند غیر معمولی بارشوں یا لینڈ سلائیڈز کا نتیجہ نہیں تھی۔ اصل میں یہ آفت کئی دہائیوں سے پہاڑوں کے بطن میں پرورش پا رہی تھی۔ ملاکنڈ، جو کبھی اپنے گھنے جنگلات کے باعث شہرت رکھتا تھا، اب غیر قانونی درختوں کی کٹائی کی بھیانک رفتار کے باعث بدنام ہے۔ سوات کی وادی کے کئی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی زور و شور سے جاری ہے۔ بحرین، مدین، کالام، مٹہ، ملم جبہ، گبین جبہ اور دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی لکڑی کی کٹائی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لکڑی کے قطعات کی پالیسی کو ان علاقوں میں کھلے عام غلط استعمال کیا گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق گزشتہ سال روزانہ پندرہ سے بیس ٹرک غیر قانونی لکڑی لے کر پنجاب منتقل کیے جا رہے تھے۔

جنگلات پہاڑوں کے لیے قدرتی چپکاؤ کا کام کرتے ہیں جو ان کے ٹوٹنے اور کٹاؤ سے بچاؤ فراہم کرتے ہیں۔ جیسے ہی جنگلات کی تہہ کم ہوتی ہے، پہاڑ تیز بہتے پانی کے سامنے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ قدرتی رکاوٹیں ہٹانے سے پانی کے بہاؤ کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جو بڑے بڑے پتھروں اور چٹانوں کو بہا لے جاتی ہے۔

یہ چٹانیں ان ویران پہاڑی ڈھلوانوں سے لڑھکتی ہوئی شور مچاتے ندی نالوں میں جا گرتی ہیں، جو بلندی سے نکل کر ہزاروں میٹر نیچے تیزی سے گرتے ہیں۔ بونیر، جو حالیہ تباہی سے سخت متاثر ہوا، جنوبی حصے میں 360 میٹر کی بلندی سے شمالی حصے میں دُسرا چوٹی پر 2,910 میٹر تک بلند ہوتا ہے۔ اتنی بڑی بلندی کے فرق کے باعث ذرا سی شدید بارش بھی ناقابلِ یقین حد تک طاقتور طوفانی ریلوں کو جنم دیتی ہے۔ سوات کے جنگلات 2007 سے 2009 کے دوران اس وقت بے دردی سے کاٹ ڈالے گئے جب طالبان نے علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا۔

یہ آفت چند غیر معمولی بارشوں کا نتیجہ نہیں تھی۔

کشمیر کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ گزشتہ ماہ ایک خبر سامنے آئی کہ نیلم ویلی میں آنے والے سیلاب غیر قانونی کٹی ہوئی لکڑی کا انبار نوشیری ڈیم کے قریب مظفرآباد لے آئے۔ اس علاقے میں خفیہ جنگلات کی کٹائی نے سیلاب کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔ 2023 میں جنگلات کے رقبے میں کمی کے نقشوں پر مبنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ گلگت بلتستان نے دو دہائیوں میں 1,700 مربع کلومیٹر سے زائد جنگلات کھو دیے۔ رپورٹ کے مطابق چلاس سب ڈویژن 2000 سے 2010 کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 8,600 ایکڑ سے زائد جنگلات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ داریل، تانگیر اور استور اس اندوہناک دوڑ میں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ حالیہ تباہی کا اثر ان ہی علاقوں پر سب سے زیادہ محسوس کیا گیا۔

بالائی سندھ بیسن میں 3,000 سے زائد گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں جو بھاری بارشوں کے باعث پھٹ جاتی ہیں اور مہلک سیلابی ریلے پیدا کرتی ہیں۔ گلگت بلتستان کی آبادی 1998 کے بعد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ نئی آبادیاں قائم کی گئیں، جبکہ لاپرواہ سیاحت نے اس نازک ماحولیاتی نظام کو مزید کمزور کردیا۔ بڑھتی ہوئی آبادی، خاص طور پر غریب طبقہ، ملک بھر کے پہاڑوں، دریائی میدانوں، جنگلات اور ریگستانوں میں خالی زمینوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ اس کی مثال پنجاب اور سندھ کے وہ کچے علاقے ہیں جہاں اگست کے آخری ہفتے میں تباہ کن سیلاب کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خود اعتراف کیا کہ سیالکوٹ پانی میں ڈوب گیا کیونکہ تجاوزات نے قدرتی پانی کے راستوں کو بند کر رکھا تھا۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب کے خشک کناروں پر بڑے پیمانے پر قبضے کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں چار دہائیوں بعد آنے والے سیلاب کے دوران ان علاقوں میں بدترین تباہی اور نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔

شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں تجاوزات نے پانی کے قدرتی بہاؤ کو روک دیا ہے۔ ملک بھر میں انفراسٹرکچر اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا کہ شدید موسمی واقعات کس طرح تباہی مچا سکتے ہیں۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں سے لے کر ساحلی پٹی تک، اب لازمی ہوچکا ہے کہ ایک جامع ماحولیاتی آڈٹ کیا جائے اور ماحولیاتی نظام کی بڑے پیمانے پر ازسرنو تعمیر کی جائے۔

سوات اور گلگت بلتستان کے پہاڑوں اور جنوبی پنجاب و سندھ کے دریائی میدانوں میں بار بار آنے والی آفات کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب اس پزل کے ٹکڑوں کو جوڑا جائے تو ایک افسوسناک تصویر سامنے آتی ہے: ہماری آفات کا اصل سبب بادل پھٹنے سے زیادہ ہماری مسلسل اور شدید بدانتظامی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین