منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاسپین کا ویولٹا سے اسرائیلی ٹیم کے اخراج کی حمایت

اسپین کا ویولٹا سے اسرائیلی ٹیم کے اخراج کی حمایت
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–غزہ نسل کشی کے خلاف بڑھتے احتجاج کے درمیان اسپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے اسرائیلی سائیکلنگ ٹیم "اسرائیل پریمئیر ٹیک” کو ویولٹا ا اسپینیا ریس سے خارج کرنے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات جاری رکھنا ممکن نہیں اور عالمی برادری کو غزہ میں جاری مظالم کے جواب میں اسرائیل کو واضح پیغام دینا چاہیے۔

الباریس نے ریڈیو ناسیونال دے اسپانیا کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ٹیم کے اخراج کے حامی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ یونین سکلستے انٹرنیشنل (UCI) کا ہے۔

احتجاج اور ریس میں خلل

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فلسطین کے حق میں مظاہرین نے بلباؤ میں ریس کے 11ویں مرحلے کو مختصر کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے قبل، پانچویں مرحلے کے ٹائم ٹرائل میں ٹیم کی شرکت کو بھی روک دیا گیا تھا، جبکہ 13ویں مرحلے میں بھی مختصر خلل پڑا۔ ویولٹا کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر کیکو گارسیا نے خبردار کیا کہ اسرائیلی ٹیم کی موجودگی مزید انتشار کا باعث بن سکتی ہے اور یا تو ٹیم کو خود رضاکارانہ طور پر دستبردار ہونا چاہیے یا UCI کو مداخلت کرنا ہوگی۔

سیاسی دباؤ اور اسپین کی خارجہ پالیسی

بائیں بازو کی جماعت ازکیئرڈا انیدا نے بھی ٹیم کے اخراج کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اسپین کی اس وسیع تر خارجہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت مئی 2025 میں میڈرڈ نے عالمی برادری پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اور اسلحہ جاتی پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے مئی 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا تھا۔

کھیل اور سیاست

اسرائیل پریمئیر ٹیک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریس میں حصہ لینا جاری رکھے گی اور اخراج کو "کھیل کے لیے خطرناک مثال” قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ٹیم کے فیصلے کی تعریف کی۔

یونین سکلستے انٹرنیشنل نے احتجاجی رکاوٹوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کھیل کو "سزا کے آلے” کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم اسپین کے وزیرِ خارجہ کے مطالبے پر تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

میڈرڈ نے نومبر 2023 سے اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کے لائسنس معطل کر رکھے ہیں اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدے پر نظرثانی کرے کیونکہ غزہ میں جاری جنگ انسانی حقوق کی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین