غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت نے عالمی موسیقی صنعت میں شدید تقسیم پیدا کر دی ہے، جہاں فنکاروں کو بائیکاٹ، ردعمل اور "اسرائیل” و فلسطین پر مؤقف اختیار کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔
مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– وال اسٹریٹ جرنل نے ہفتے کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غزہ کی جنگ، جو اب اپنے دوسرے سال میں داخل ہونے کو ہے، نے موسیقی کی دنیا میں غیر معمولی سرگرمی اور عوامی مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ پاپ اسٹارز سے لے کر زیرِ زمین فنکاروں تک، زیادہ تر موسیقار اپنے پلیٹ فارمز کا استعمال اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے اور فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف جو فنکار خاموش ہیں، انہیں مداحوں اور کارکنوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔
بائیکاٹ مہم کی شدت
فلسطینی حامی تحریک بائیکاٹ، سرمایہ نکالنے اور پابندیوں (BDS) نے اپنی مہم تیز کر دی ہے، اور ان فنکاروں اور پروموٹرز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جن کا تعلق کسی نہ کسی طرح اسرائیل سے ہے۔ تازہ ترین نشانے پر برطانوی بینڈ ریڈیو ہیڈ آیا، جس کے 2017 میں تل ابیب میں ہونے والے شو اور گٹارسٹ جانی گرین ووڈ کی اسرائیلی موسیقار کے ساتھ شراکت داری کو بنیاد بنا کر ان کے یورپی ٹور کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی ہے۔
موسیقی اور سیاست کا ملاپ
اسٹیج پر فلسطین کی حمایت کے مظاہر اب نظرانداز کرنا ناممکن ہو چکے ہیں۔ امریکی بینڈ امیجن ڈریگنز نے طویل عرصے تک غیر جانب داری کا دعویٰ کرنے کے بعد آخرکار میلان میں ایک کنسرٹ کے دوران فلسطینی پرچم لہرایا۔ اسی طرح پاپ اسٹار چارلی ایکس سی ایکس نے پرتگال کے پریماویرا ساؤنڈ پورٹو فیسٹیول میں "Free Palestine” کے نعرے لگوا کر تحریک میں شمولیت اختیار کی، جو مداحوں کے آن لائن دباؤ کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
اسی دوران گلاسٹن بری فیسٹیول اس موسم گرما میں ایک تنازع کا مرکز بن گیا، جب برطانوی ریپ جوڑی بوب وائلن نے اسٹیج پر "Free Free Palestine” کے نعرے لگائے اور اسرائیلی فوج کے بارے میں "آئی ڈی ایف کی موت” کے الفاظ ادا کیے۔ اس بیان پر برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر اور اسرائیلی سفارت خانے کی جانب سے شدید مذمت کی گئی، تاہم بہت سے حاضرین کے لیے یہ مظاہرہ اسرائیلی جارحیت پر شدید عوامی غصے کا اظہار تھا۔ اس کے بعد بوب وائلن کو ان کی ایجنسی نے معاہدے سے نکال دیا، جسے کارکنان اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہیں کہ فلسطین کی حمایت کرنے والے فنکاروں کو صنعت میں سزا دی جاتی ہے۔
اسرائیل کے حامی فنکار بھی دباؤ میں
فلسطینی حمایت تک محدود نہ رہتے ہوئے یہ دباؤ ان فنکاروں پر بھی بڑھ گیا ہے جو کھل کر اسرائیل کے حامی ہیں۔ گلوکارہ ازیلیا بینکس، جو کھلی صیہونی مؤقف رکھتی ہیں، نے دعویٰ کیا کہ برطانوی میوزک فیسٹیولز انہیں فلسطین کے حق میں بیانات دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی-ایرانی نژاد گلوکارہ لراز چاحری نے کہا کہ "فری فلسطین” کا نعرہ پوسٹ کرنے سے انکار کرنے پر ان کے کئی کنسرٹس منسوخ کر دیے گئے۔
ادھر جانی گرین ووڈ اور اسرائیلی موسیقار ڈوڈو تاسا کے دو مشترکہ شوز بھی بی ڈی ایس کے دباؤ کے باعث اس سال کے اوائل میں منسوخ کر دیے گئے۔
فنکاروں کا ردعمل اور سوشل میڈیا تنازعات
ریڈیو ہیڈ کے فرنٹ مین ٹام یارک نے معاملے پر متوازن مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو "انتہا پسند اور موقع پرست” قرار دیا لیکن ساتھ ہی حماس کو بھی "اتنا ہی موقع پرست” کہا۔ انہوں نے استدلال دیا کہ "فری فلسطین” کے نعرے لگانا حماس کے کردار کو نظرانداز کرتا ہے۔ تاہم بی ڈی ایس نے ان کے تبصرے کو "نسل کشی کی پردہ پوشی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ یارک نے اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے "وچ ہنٹس” نے ان پر "شدید دباؤ” ڈالا ہے۔
بینڈ یو 2 نے بھی اگست میں اسرائیل اور حماس دونوں پر تنقید کی، لیکن آئرلینڈ میں انہیں اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت مؤقف نہ اپنانے پر ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ آئرش گلوکارہ مریم کاگلان نے ان کے مؤقف کو "گھناؤنا اور بزدلانہ” قرار دیا، جبکہ کچھ حلقوں نے یو 2 کے مؤقف کو "توازن کی نادر مثال” قرار دیا۔
اسی دوران کولڈ پلے کے فرنٹ مین کرس مارٹن نے لندن میں ایک کنسرٹ کے دوران کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، جب دو اسرائیلی مداحوں کو حاضری میں موجود لوگوں کی جانب سے ہوٹنگ اور شور کا سامنا کرنا پڑا۔ مارٹن نے کہا کہ میں شکر گزار ہوں کہ آپ یہاں بطور انسان موجود ہیں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ برابری کے درجے پر دیکھنا چاہیے، چاہے ہم کہیں سے بھی آئے ہوں۔
صنعت پر اثرات اور مستقبل کا منظرنامہ
گزشتہ سال عالمی لائیو میوزک انڈسٹری کی مالیت تقریباً 35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی، اور اندازہ ہے کہ 2035 تک یہ رقم تقریباً دگنی ہو جائے گی۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطین کے حق میں ابھرنے والی مضبوط تحریک میوزک انڈسٹری کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
فلسطینی حامی کارکنوں کے مطابق، یہی اس تحریک کا اصل مقصد ہےکہ تفریحی صنعت اس وقت غیر جانبدار نہیں رہ سکتی جب غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہو.

