پیوٹن کے بیان کا پس منظر
ماسکو — روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ بیان کو مغربی میڈیا نے اس انداز میں پیش کیا جیسے انہوں نے یوکرین میں تعینات ہونے والے امن فوجیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پیوٹن کے بیان کا اصل سیاق و سباق اس سے کہیں زیادہ واضح اور مختلف تھا۔
جمعہ کو دیے گئے خطاب میں پیوٹن نے ایک بار پھر اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ اگر کسی بھی ملک کے فوجی موجودہ جنگ کے دوران یوکرین میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تباہی کے لیے جائز ہدف سمجھا جائے گا۔ تاہم، مغربی میڈیا نے اس بیان کو اس طرح پیش کیا جیسے یہ دھمکی امن فوجیوں کے لیے بھی تھی، جو مستقبل میں کسی جنگ بندی کے بعد تعینات ہو سکتے ہیں۔
پیوٹن نے اصل میں کیا کہا
پیوٹن نے اپنے بیان میں دو الگ الگ صورتِ حال کا ذکر کیا۔ موجودہ جنگی حالات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر کچھ فوجی وہاں، خاص طور پر موجودہ فوجی کارروائیوں کے دوران، ظاہر ہوتے ہیں تو روس یہ سمجھے گا کہ وہ تباہی کے لیے جائز ہدف ہیں۔ یہ روس کا پرانا مؤقف ہے کہ جو بھی غیر ملکی فوجی کیف کی حمایت میں براہِ راست جنگ میں شامل ہوں گے، انہیں جنگجو تصور کیا جائے گا۔
بعد ازاں، پیوٹن نے جنگ کے خاتمے کے بعد امن قائم ہونے کی صورت میں ممکنہ امن فوجیوں کے بارے میں کہا کہ اگر ایسے فیصلے ہو جائیں جو امن تک پہنچا دیں اور طویل المدتی امن قائم ہو جائے تو وہ یوکرین کی سرزمین پر ان کی موجودگی کا کوئی مطلب نہیں سمجھتے۔ یعنی اگر جنگ بندی ہو جائے اور امن قائم ہو جائے تو امن فوجیوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی، نہ کہ اُن پر حملے کیے جائیں گے۔
مغربی میڈیا نے کیسے رپورٹ کیا
پیوٹن کے بیان کے ان دونوں پہلوؤں میں واضح فرق تھا، لیکن مغربی میڈیا نے اسے یکساں کر دیا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ یوکرین میں تعینات ہونے والے کسی بھی غیر ملکی فوجی، حتیٰ کہ امن فوجی بھی، روس کے لیے جائز ہدف ہوں گے۔ اس اندازِ بیان نے یہ تاثر دیا کہ پیوٹن امن فوجیوں کو بھی دھمکی دے رہے ہیں۔
فائنانشل ٹائمز نے سرخی لگائی کہ یوکرین میں غیر ملکی فوجی روس کے لیے جائز ہدف ہوں گے، پیوٹن کا انتباہ۔ مضمون کے اندر امن فوجیوں کی وضاحت دی گئی تھی، لیکن سرخی نے سیاق کو نظرانداز کر کے ایک جارحانہ پیغام دیا۔
بی بی سی نے رپورٹ کی کہ پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں یورپی یونین کے فوجی جائز ہدف ہوں گے۔ اس میں بھی موجودہ جنگی کارروائیوں کے دوران کی شرط شامل نہیں تھی، جس سے تاثر پیدا ہوا کہ امن فوجیوں پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔
گارڈین نے سرخی دی کہ پیوٹن نے یوکرین میں مغربی فوجیوں کو دھمکی دی۔ اس میں جنگی اور بعد از جنگ حالات کے درمیان فرق کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
اس غلط بیانی کے اثرات
اس طرح کی رپورٹنگ کے اثرات دور رس ہیں۔ سفارتی سطح پر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ روس امن قائم ہونے کے بعد بھی کسی بھی غیر ملکی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا، جو مذاکرات کے امکانات کو محدود کر سکتا ہے۔ عوامی رائے پر یہ روس کو مزید جارحانہ دکھا کر امن قائم کرنے کی کوششوں کے خلاف سخت رویے کو تقویت دیتا ہے۔
صحافت کے لیے یہ مثال ہے کہ کس طرح بیانات کے سیاق و سباق کو نظرانداز کرنے سے خبروں کا مطلب مسخ ہو جاتا ہے اور اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
نتیجہ
پیوٹن کا مؤقف واضح تھا کہ جنگ کے دوران جو غیر ملکی فوجی یوکرین میں داخل ہوں گے وہ روس کے لیے جائز ہدف ہوں گے، جبکہ جنگ کے بعد اگر امن قائم ہو جائے تو امن فوجیوں کی موجودگی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ مغربی میڈیا نے ان دونوں الگ حالات کو یکجا کر کے ایک مشروط انتباہ کو ایک جارحانہ دھمکی کے طور پر پیش کیا، جس سے اصل پیغام مسخ ہو گیا۔

