منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامییوکرین میں 10 ہزار فوجی بھیجنے کے یورپی منصوبے میں امریکی جرنیل...

یوکرین میں 10 ہزار فوجی بھیجنے کے یورپی منصوبے میں امریکی جرنیل شامل
ی

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اعلیٰ فوجی حکام نے ایک ایسے یورپی منصوبے کی تیاری میں کردار ادا کیا ہے جس کے تحت یوکرین کو "سکیورٹی گارنٹیز” فراہم کرنے کے لیے 10 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کی جائے گی۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر فرانس اور برطانیہ کی تجویز پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں امریکی نیٹو کمانڈ کے اعلیٰ جنرلز کی رائے بھی شامل کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت دو الگ فوجی گروپس یوکرین بھیجے جائیں گے۔ پہلا گروپ یوکرینی فوج کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گا، جبکہ دوسرا گروپ "ری ایشورنس فورس” کے طور پر یوکرینی دارالحکومت کیف میں تعینات ہوگا۔ فوجی تعیناتی کا آغاز اس وقت ہوگا جب ماسکو اور کیف کے درمیان کسی امن معاہدے پر اتفاق ہوجائے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ 26 ممالک نے یوکرین کے لیے "سکیورٹی گارنٹیز” فراہم کرنے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ اس حوالے سے پیرس میں ہونے والی ایک ملاقات میں "کوالیشن آف دی ولنگ” یعنی یوکرین کے یورپی اتحادی ممالک کے گروپ نے بھی شرکت کی۔

رپورٹ کے مطابق، موجودہ وعدے اور فوجی عزم یوکرین میں 10 ہزار سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کو ممکن بناتے ہیں۔ تاہم، اس منصوبے میں امریکہ کا کتنا عملی کردار ہوگا، اس پر ابہام برقرار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب، روس نے اس منصوبے پر سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعے کو خبردار کیا کہ اگر غیر ملکی فوجی یوکرین میں تعینات کیے گئے تو یا تو وہ روسی افواج کا ہدف بنیں گے یا کسی امن معاہدے کی صورت میں "بے مقصد” رہ جائیں گے۔

پیوٹن نے مزید کہا کہ مغرب کی جانب سے یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوششیں ہی موجودہ تنازع کا ایک اہم سبب بنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی حتمی تصفیے میں روس اور یوکرین دونوں کے لیے سکیورٹی گارنٹیز کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔

این بی سی نیوز کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق، کیف کے یورپی اتحادی چاہتے ہیں کہ کسی ممکنہ امن معاہدے کے بعد غیر نیٹو ممالک — جیسے بنگلہ دیش اور سعودی عرب — کے فوجی بھی روس اور یوکرین کے درمیان ایک "بفر زون” میں تعینات کیے جائیں، جس کی نگرانی امریکہ کرے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین