منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیمہلت ختم ہونے کے بعد افغانوں کی واپسی میں نمایاں اضافہ

مہلت ختم ہونے کے بعد افغانوں کی واپسی میں نمایاں اضافہ
م

اسلام آباد (مشرق نامہ): اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈز کی مہلت 31 اگست کو ختم ہونے کے بعد افغانوں کی پاکستان سے واپسی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست میں افغانوں کی واپسی کی شرح میں جولائی کے مقابلے میں 254 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جبری ملک بدری کے واقعات میں 191 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے منصوبے (IFPR) کے تیسرے مرحلے کے آغاز سے مطابقت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 4 ستمبر تک 5 لاکھ 31 ہزار 700 افغان پاکستان سے واپس جا چکے ہیں۔

اپریل سے اب تک 4 لاکھ 83 ہزار 700 سے زائد افغان واپس جا چکے ہیں، جن میں صرف اگست میں 1 لاکھ 45 ہزار 200 افراد شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 55 ہزار نے ماہ کے آخری چار دنوں میں واپسی کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ واپس جانے والوں میں پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ ہولڈرز کا تناسب اپریل میں 6 فیصد سے بڑھ کر مئی تا جولائی میں 21 سے 23 فیصد رہا۔ تاہم اگست میں یہ شرح بڑھ کر 54 فیصد (77,700 افراد) تک پہنچ گئی۔

اپریل سے اب تک 57 ہزار 300 افراد کو گرفتار اور حراست میں لیا گیا ہے، جن میں PoR کارڈ ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ صرف اگست میں 9,000 گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ جولائی میں یہ تعداد تقریباً 3,400 تھی۔ گرفتاری اور حراست کے سب سے زیادہ واقعات چاغی (بلوچستان)، اسلام آباد اور پشین (بلوچستان) میں ریکارڈ کیے گئے۔

افغانستان میں یو این ایچ سی آر نے PoR کارڈ ہولڈرز، ان کے قریبی اہل خانہ، یو این ایچ سی آر سلِپ ہولڈرز، پناہ گزین سرٹیفکیٹ رکھنے والوں اور دیگر مستحقین کا بایومیٹرک اندراج اور مالی امداد جاری رکھی۔

رپورٹ کے مطابق یہ مدد ان افغان خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہے جو پاکستان سے اچانک اور غیر تیاری کے ساتھ واپس جانے پر مجبور ہوئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین