منگل, فروری 17, 2026
ہومنقطہ نظرروسیہ اور چین سامراجی نہیں ہیں: 1917 کے بعد سامراجیت کی ترقی...

روسیہ اور چین سامراجی نہیں ہیں: 1917 کے بعد سامراجیت کی ترقی کا ایک مارکسی-لیننی تجزیہ
ر

کارلوس ایل. گاریڈو

مغربی بائیں بازو کے کئی حلقے لینن کے نظریے کو غلط استعمال کرتے ہیں، جبکہ آج کے دور میں سامراجیت صرف امریکی بالادستی اور یک قطبی حکمرانی میں مجسم ہے، اور روس و چین اس کے مقابل مزاحمتی، سامراج مخالف طاقتوں کے طور پر عمل کر رہے ہیں۔

آج مغرب کے بائیں بازو کے کئی دھڑے، ٹراٹسکائیوں سے لے کر مغربی مارکسیوں تک اور کٹر مارکسسٹ-لیننسٹوں تک، روس اور چین کو سامراجی قرار دیتے ہیں۔ یہ درجہ بندی وہ لینن کے مشہور 1917 کے متن سامراجیت: سرمایہ داری کا اعلیٰ ترین مرحلہ سے اخذ کردہ کچھ اصولوں پر کرتے ہیں۔ لیکن میری رائے میں یہ درجہ بندی نہ صرف غلط ہے بلکہ سراسر الٹی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس مغالطے کی جڑ لینن کے سامراجیت کے تصور کی سخت گیر، جمود زدہ تفہیم میں ہے، جسے میں ذیل میں وضاحت سے بیان کروں گا۔

خود کتاب کے عنوان کا ترجمہ بھی کئی جگہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ اس کا مطلب اکثر ایسے لیا جاتا ہے جیسے لینن سرمایہ داری کے ایک حتمی مرحلے کی بات کر رہے ہوں، یعنی ایک ایسا انجام جس کے بعد کوئی اور ارتقا ممکن نہیں۔ لیکن لینن کے اصل روسی متن میں استعمال ہونے والا لفظ نوویشی (Новейший) دراصل "آخری” نہیں بلکہ "تازہ ترین” یا "اب تک کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ” مرحلہ ظاہر کرتا ہے۔ لینن سرمایہ داری کے ارتقا کو "مردہ دم” قرار ضرور دیتے ہیں اور اسے محنت کش طبقے اور نوآبادیاتی تحریکوں کے انقلابی عہد سے جوڑتے ہیں، لیکن وہ کہیں نہیں کہتے کہ سامراجیت مزید ترقی نہیں کر سکتی۔

لینن کے زمانے میں سامراجیت کو اجارہ دار سرمایہ داری کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس مرحلے میں مالیاتی سرمائے کا غلبہ پیدا ہو چکا تھا۔ سرمایہ داری نے اجناس کی برآمد کے بجائے سرمائے کی برآمد کو فوقیت دینا شروع کر دی تھی جیسا کہ برطانوی سامراج میں رائج تھا۔ دنیا بڑی سامراجی طاقتوں میں بٹ چکی تھی اور یہ طاقتیں اپنے اپنے اثر و رسوخ کے دائرے وسیع کرنے کے لیے آپس میں مسلسل برسرپیکار تھیں۔ ان حالات نے بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم کے لیے زرخیز میدان پیدا کر دیا تھا۔ لینن کے سامنے اس کی سب سے واضح مثال پہلی عالمی جنگ تھی، جو دراصل ان طاقتوں کی باہمی لڑائی کا براہِ راست نتیجہ تھی۔

لینن نے بالکل درست کہا کہ سامراجیت محض کوئی وقتی پالیسی نہیں بلکہ سرمایہ داری کے اندرونی ارتقا کا فطری مرحلہ ہے۔ کارل کاٹسکی جیسے لوگ جو سامراجیت کو صرف ایک سیاسی حکمتِ عملی سمجھتے تھے، وہ اس جوہر کو نہیں سمجھ پائے۔ لینن کے نزدیک یہ سرمایہ داری کا لازمی ارتقا تھا، نہ کہ طاقتوروں کا کوئی وقتی اتحاد۔ اس لیے ان کے زمانے میں جنگ محض ایک امکان نہیں بلکہ سرمایہ داری کے تضادات کا ناگزیر نتیجہ تھی۔

یہ جنگیں دو اقسام میں ظاہر ہوئیں۔ پہلی وہ جنگیں تھیں جنہیں قومی آزادی کی جنگیں کہا جا سکتا ہے، یعنی نوآبادیاتی اقوام کی سامراج کے خلاف بغاوتیں۔ اس کے ساتھ بالشویک انقلاب کے بعد سوشلسٹ اور سرمایہ دارانہ بلاکس کے درمیان بھی جنگیں شروع ہوئیں۔ دوسری قسم کی جنگیں بڑی سامراجی طاقتوں کے درمیان تھیں، کیونکہ اس وقت دنیا کی نوآبادیاتی تقسیم مکمل نہیں ہوئی تھی اور ہر طاقت زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھی۔ یہ پس منظر سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ جب لینن بین-سامراجی تضادات کی بات کرتے ہیں تو وہ اسی مخصوص دور کے حالات پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔

مارکسزم کا جوہر محض لینن کے نتیجے نہیں بلکہ ان کا منہجِ تجزیہ ہے۔ مارکسزم کی روح یہ ہے کہ دنیا کو اس کے اندرونی تضادات اور ارتقائی تبدیلیوں کے ذریعے سمجھا جائے۔ کوئی بھی شے اس کے سیاق و سباق سے الگ ہو کر نہیں سمجھی جا سکتی۔ اگر ہم لینن کے 1917 کے نتائج کو جامد اصول بنا کر آج کے حالات پر نافذ کریں تو ہم مارکسزم کے بجائے محض جمود زدہ فکر اختیار کر رہے ہیں۔ یہی غلطی مغربی بائیں بازو کے حلقے کرتے ہیں جب وہ روس اور چین کو موجودہ دور میں سامراجی قرار دیتے ہیں۔ لینن کے وقت کے مخصوص حالات سے اخذ کردہ پانچ خصوصیات کو آج کے حالات پر بلا تناظر لاگو کرنا محض سطحی سوچ ہے۔ لینن نے ان خصوصیات کو کوئی حتمی تعریف کے طور پر نہیں پیش کیا تھا بلکہ اپنے دور کے سرمایہ داری کے نظام کا ٹھوس تجزیہ کرتے ہوئے یہ نکات بیان کیے تھے۔ اس وقت کے حالات میں یہ خصوصیات سرمایہ داری کے اس مرحلے کو سمجھنے کے لیے کارآمد تھیں، لیکن آج کے حالات میں ان کا براہِ راست اطلاق محال ہے۔

میرے نزدیک لینن کے بیان کردہ سامراجی مرحلے کے بعد دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں ایک نیا معیاری ارتقا ہوا۔ بریٹن ووڈز نظام نے سامراجیت کو بین الاقوامی نہیں بلکہ عالمی مظہر بنا دیا۔ اب سامراجیت براہِ راست بڑی طاقتوں کے درمیان تقسیم کے بجائے امریکی غلبے والے عالمی مالیاتی ڈھانچے میں مجسم ہو گئی۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام امریکی بالادستی کے اوزار بن گئے۔ نِکسن کے 1971 میں سونے کے معیار سے دستبرداری کے بعد یہ یک قطبی غلبہ مزید گہرا ہو گیا۔ اب سامراجیت کا مطلب ہے امریکی مالیاتی و فوجی بالادستی۔

یہ وہ مرحلہ ہے جسے کئی ماہرین سپر سامراجیت کہتے ہیں۔ لینن کے وقت کی سامراجیت اب "تازہ ترین” مرحلہ نہیں رہی بلکہ سرمایہ داری نے اپنی داخلی جدلیات کے ذریعے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے، ایسی شکل جو زیادہ تر مالیاتی سرمایہ کے گرد گھومتی ہے۔

آج عالمی سامراجی منافع کا سب سے بڑا حصہ قرض اور سود کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ مسلسل بجٹ خسارے میں چل سکتا ہے کیونکہ اس نے عالمی مالیاتی نظام کو ڈالر کے گرد باندھ رکھا ہے۔ باقی دنیا اس کے فوجی اخراجات اور سرمایہ کاری کی بالواسطہ مالی معاونت پر مجبور ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے ادارے امریکہ کے کنٹرول میں ہیں۔ نہ روس اور نہ ہی چین ان اداروں کو اپنی مبینہ سامراجی پالیسیوں کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی ادارے امریکہ کی جانب سے روس، چین اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

لہٰذا موجودہ دور میں سامراج کا مطلب صرف اور صرف امریکی یک قطبی غلبہ ہے۔ کوئی بین-سامراجی جنگ ممکن نہیں رہی کیونکہ اب سامراجیت صرف ایک طاقت کے گرد مرکوز ہے۔ موجودہ جنگیں دراصل امریکی بلاک اور سامراج مخالف قوتوں کے درمیان ہیں۔

اس عالمی نظام میں روس اور چین کو سامراجی نہیں بلکہ سامراج مخالف بڑی طاقتیں سمجھا جانا چاہیے، جیسا کہ ہیوگو شاویز نے بہت پہلے کہا تھا۔ روس کی خصوصی فوجی کارروائی، چین کا امریکی دباؤ کے آگے نہ جھکنا، مغربی ایشیا میں محورِ مزاحمت، یہ سب دراصل ایک بڑی عالمی کشمکش کے جز ہیں، یعنی امریکی سامراجیت بمقابلہ عالمی سامراج مخالف محاذ۔

لہٰذا روس اور چین کو سامراجی کہنا حقائق کی الٹ تصویر پیش کرنا ہے۔ آج عالمی تضاد صاف ہے۔ ایک طرف امریکی سامراجیت اور اس کے یورپی و صیہونی حواری ہیں اور دوسری طرف ایک متنوع مگر متحد سامراج مخالف محاذ ہے۔ یہاں غیرجانبداری ممکن نہیں، جیسے طبقاتی جدوجہد میں بھی کوئی غیرجانبداری نہیں۔ جو لوگ روس اور چین کو سامراجی قرار دیتے ہیں، وہ دراصل شعوری یا غیر شعوری طور پر امریکی سامراجیت کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین