منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیفٹبال کا دوہرا معیار: غزہ جل رہا ہے، اسرائیل کھیل رہا ہے

فٹبال کا دوہرا معیار: غزہ جل رہا ہے، اسرائیل کھیل رہا ہے
ف

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–جب غزہ قتلِ عام اور تباہی کی لپیٹ میں ہے، فیفا (FIFA) اور یوئیفا (UEFA) خاموش ہیں۔ اسرائیل کو کھیلنے کی مکمل آزادی ہے جبکہ فلسطینیوں کی انصاف کے لیے دی جانے والی اپیلیں مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔

دی آبزرور کے لیے لکھے گئے کالم میں اسٹیو بلوم فیلڈ نے بتایا کہ اسرائیلی "قومی” ٹیم دنیا بھر کے مقابلوں میں شریک ہے گویا کچھ ہوا ہی نہیں، جبکہ فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی بار بار کی گئی معطلی کی اپیلوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس رویے نے فٹبال کی دوہرے معیار کو عیاں کر دیا ہے۔

یوکرین کے مقابلے میں فلسطین کے ساتھ امتیازی رویہ

2022 میں جب یوکرین کی جنگ شروع ہوئی تھی، اس کے محض چار دن بعد فیفا اور یوئیفا نے فوری طور پر روسی ٹیموں کو اپنی تمام ٹورنامنٹس سے باہر کر دیا تھا۔ اس وقت دونوں اداروں نے اعلان کیا تھا کہ فٹبال “یوکرینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی” میں ہے۔

لیکن 700 دن بعد، جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری اور جنگ جاری ہے، صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ آج اسرائیل کی مردوں کی قومی ٹیم مولدووا کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر کھیل رہی ہے — یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ فٹبال نے فلسطینیوں کے ساتھ اسی طرح کی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

فٹبال کی دنیا میں اسرائیل بے روک ٹوک کھیل رہا ہے

ابتدا میں کچھ حلقے یہ دلیل دیتے رہے کہ یوکرین کی جنگ اور اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد کی "جوابی کارروائی” دو الگ معاملات ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ غزہ کی تباہی نے ہر تناسب کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔

تقریباً دو سال گزرنے کے بعد بھی اسرائیل کی مسلسل بمباری میں 63 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہر ہفتے نئی ہولناک خبریں آتی ہیں: صحافیوں کا قتل، کیفے ہاؤسز کی تباہی، خوراک کی تلاش میں قطاروں میں لگے بھوکے لوگوں پر فائرنگ۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیرِاعظم پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کر دیے ہیں، جن میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ بڑی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور نسل کشی پر تحقیق کرنے والے ماہرین مزید آگے بڑھ کر اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کر چکے ہیں۔

اس سب کے باوجود فٹبال کی دنیا میں اسرائیل پر کوئی قدغن نہیں۔ متعدد اپیلوں کے باوجود فیفا نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ اسٹیو بلوم فیلڈ لکھتے ہیں کہ جب فیفا سے ردِعمل مانگا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

یوئیفا نے بھی صرف ایک مبہم ٹوئیٹ کی، جس میں فلسطینی فٹبالر سلیمان العبید کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا تھا — وہ شخص جو کھانے کی لائن میں لگے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنا۔ یہ ٹوئیٹ اتنی غیر واضح اور گول مول تھی کہ لیورپول کے اسٹار محمد صلاح نے یوئیفا سے براہِ راست سوال کیا:

کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں وہ کیسے، کہاں اور کیوں مارا گیا؟

فٹبال کو وہ جرات دکھانی چاہیے جو حکومتوں میں نہیں

روس کے خلاف تیز کارروائی کا تعلق کسی اصولی مؤقف سے کم اور یورپی دباؤ سے زیادہ تھا۔ یورپی ٹیموں نے اپنی حکومتوں کی حمایت کے ساتھ روس کے خلاف کھیلنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ پولینڈ ان ابتدائی ملکوں میں شامل تھا جس نے ورلڈ کپ کوالیفائر کے شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کر کے واضح پیغام دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل آسانی سے کھیل رہا ہے۔ یورپی فٹبال ایسوسی ایشنز اپنی حکومتوں کی طرح ہی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ اگلے ماہ اسرائیل کا اٹلی کے خلاف میچ طے ہے اور اکتوبر میں ناروے کے خلاف بھی۔ اٹلی کے کوچز یونین نے اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ تو کیا ہے اور ناروے نے اعلان کیا ہے کہ میچ کی آمدنی غزہ امدادی تنظیموں کو دی جائے گی، لیکن دونوں ممالک میں سے کسی نے بھی بائیکاٹ کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اگر صرف دو یورپی ٹیمیں میدان میں اترنے سے انکار کر دیں تو فیفا اور یوئیفا کے پاس کارروائی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ رہے گا۔ لیکن ایسا کرنے کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی جڑا ہے — ممکنہ سخت پابندیاں اور ورلڈ کپ میں شرکت کے حق سے محرومی۔

بائیکاٹ چھوٹا قدم ہے، لیکن اہم ہے

اسٹیو بلوم فیلڈ کے مطابق، اگرچہ بڑے پیمانے پر ہونے والے جرائم کے مقابلے میں کھیلوں کا بائیکاٹ معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن علامتی اقدامات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

سابق برطانوی رہنما پیٹر ہین، جنہوں نے کھیلوں کے ذریعے جنوبی افریقہ کی نسلی امتیاز کی حکومت کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم چلائی تھی، یاد دلاتے ہیں کہ کھیلوں کا بائیکاٹ ایک طاقتور ہتھیار تھا۔ ایسے اقدامات نے ان حکومتوں کی وقعت اور جوازیت کو متاثر کیا۔

فٹبال اگرچہ سطحی نظر آ سکتا ہے، لیکن دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا مرکزی حصہ ہے۔ اسرائیل کے خلاف ممکنہ بائیکاٹ کے مطالبے سے دنیا کی توجہ پھر ایک بار اس جنگ کی طرف مبذول ہو گی، جسے کئی طاقتیں نظرانداز کرنا چاہتی ہیں۔

فٹبال کو حکومتوں سے زیادہ حوصلہ دکھانا ہوگا

بلوم فیلڈ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسرائیلی ٹیم کو وہ برابری کا حق نہیں ملنا چاہیے جو فیفا اور یوئیفا نے اب تک اسے دیا ہے۔ فٹبال کو وہ جرات دکھانی ہوگی جو حکومتوں میں نہیں۔

یقیناً، فٹبال اس جنگ کو ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی غزہ کے عوام کی فوری تکالیف کم کر سکتا ہے — یہ اختیار ڈونلڈ ٹرمپ اور بینجمن نیتن یاہو جیسے طاقتور سیاسی رہنماؤں کے پاس ہے، کھلاڑیوں یا شائقین کے پاس نہیں۔ لیکن جیسا کہ پیٹر ہین کہتے ہیں کہ آپ وہی کر سکتے ہیں جو آپ کر سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین