مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ماسکو نے کہا ہے کہ وہ اس بات کی قدر کرتا ہے کہ بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود روسی تیل اور دیگر مصنوعات کی خریداری سے انکار نہیں کیا۔ یہ بات روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے انڈونیشی اخبار کمپاس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
لاوروف کے مطابق بھارت نے آزاد تجارت کے اصولوں پر اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے متعدد تجارتی شراکت داروں کو زیادہ درآمدی محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی تھی اور بھارت بھی اس پالیسی کا نشانہ بنا۔
گزشتہ ماہ امریکہ نے بھارت سے آنے والی زیادہ تر مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا، جب دونوں ممالک کسی تجارتی معاہدے پر متفق نہ ہو سکے۔ اس کے بعد نئی دہلی کی جانب سے روسی خام تیل کی مسلسل خریداری پر مزید 25 فیصد اضافی محصولات لگا دیے گئے، جس سے مجموعی درآمدی ٹیکس 50 فیصد تک پہنچ گیا۔
لاوروف نے کہا کہ ماسکو نئی دہلی کے اس موقف کی قدر کرتا ہے کہ اس نے دباؤ کے باوجود اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، آزاد تجارت کے وہی اصول جنہیں خود امریکی دہائیوں تک سراہتے رہے، اب وہی امریکہ ان کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
بھارت نے ان امریکی محصولات کو "غیر منصفانہ، بلا جواز اور غیر معقول” قرار دیتے ہوئے روسی خام تیل کی خریداری جاری رکھی ہے۔
اگست میں ماسکو میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران لاوروف نے روس اور بھارت کے درمیان کثیرالجہتی تعاون کو بھی سراہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی تعلقات کا ایک کثیر قطبی نظام ہے، جس میں ایس سی او، برکس اور جی 20 کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن رواں سال کے آخر میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔

