مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–ماہرین کے مطابق روسی جامعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ماسکو کی خارجہ پالیسی کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت وہ عالمی جنوب کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
ویڈوموسٹی کی بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق روس 2024 میں غیرملکی طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ روسی انٹرنیشنل افیئرز کونسل کی رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے درمیان چین، بھارت، مصر اور ایران سے آنے والے طلبہ کی تعداد دوگنا ہوگئی، جبکہ آزاد ریاستوں کی دولتِ مشترکہ (CIS) ممالک سے داخلوں میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مجموعی طور پر 170 ممالک کے طلبہ روس میں زیرِتعلیم ہیں۔
یونیسکو کے اعدادوشمار کے مطابق 2023 میں تقریباً 64 لاکھ طلبہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ 2024 میں روس میں 3 لاکھ 76 ہزار غیرملکی طلبہ زیرِتعلیم ہیں، جو کہ کل اندراجات کا 8.5 فیصد بنتے ہیں۔ اس اعتبار سے روس امریکہ (9.57 لاکھ)، برطانیہ (6.75 لاکھ)، آسٹریلیا (4.67 لاکھ)، جرمنی (4.23 لاکھ)، کینیڈا (8.42 لاکھ) اور فرانس (5.05 لاکھ) کے بعد ساتویں نمبر پر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق سوویت یونین سے باہر کے ممالک کے طلبہ کی بڑھتی دلچسپی ماسکو کی بدلتی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ روسی اکیڈمی آف نیشنل اکانومی اینڈ پبلک ایڈمنسٹریشن (RANEPA) کے سینئر محقق ایوگینی ورشاویئر کے مطابق بھارت کی اعلیٰ ذاتوں کے ایسے طلبہ جو اپنے ملک میں مفت اعلیٰ تعلیم کے اہل نہیں، اب روسی جامعات میں زیادہ داخلہ لے رہے ہیں کیونکہ بھارتی منڈی میں روسی ڈگریوں کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق غیرملکی طلبہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ شعبے معیشت، طب، فارمیسی، لسانیات اور تعلیم ہیں، جبکہ تکنیکی شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعمیرات زیادہ مقبول ہیں۔
رپورٹ کے مطابق روسی جامعات کی کشش کا سبب معیاری اور کم لاگت تعلیم، لچکدار کورسز، ریاستی سطح پر معاونت پر مبنی ویزا و ہجرت پالیسی، گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع اور مفت تعلیم کے امکانات ہیں۔
گزشتہ سال تقریباً 45 ہزار غیرملکی طلبہ نے حکومتی وظائف پر تعلیم حاصل کی، جو 2021 کے صرف 18 ہزار کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ان میں سے تقریباً صرف 8 فیصد طلبہ سی آئی ایس ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ روسی وزارتِ تعلیم کے اندازوں کے مطابق تقریباً 10 فیصد غیرملکی گریجویٹس تعلیم مکمل کرنے کے بعد روس میں ہی رہائش اور ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔

