مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–ڈراپ سائٹ نیوز کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم سے غزہ میں قحط کے حقائق کو جھٹلانے اور اقوامِ متحدہ سمیت مختلف عالمی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ چھ ماہ کا معاہدہ نیتن یاہو کے دفتر کے اشتہاری بیورو کے ذریعے کیا گیا، جس میں گوگل کو وزیراعظم کی حکومتی حکمتِ عملی کو دنیا بھر میں آگے بڑھانے کے لیے “کلیدی ادارہ” قرار دیا گیا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا جب 2 مارچ 2025 کو اسرائیل نے غزہ پر مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت خوراک، ایندھن، ادویات اور انسانی ہمدردی کی تمام تر امداد غزہ میں داخل ہونے سے روک دی گئی۔ تاہم انسانی المیے پر توجہ دینے کے بجائے اسرائیلی پارلیمان کے ارکان اس بات پر غور کرتے رہے کہ بین الاقوامی سطح پر ردعمل کو کس طرح قابو کیا جائے۔
ڈیجیٹل پروپیگنڈا مہم کی تیاری
اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائی ایڈری نے ایک پارلیمانی اجلاس کے دوران مشورہ دیا کہ عالمی سطح پر بھوک کے بارے میں رپورٹس کو “جھوٹا” ثابت کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہم شروع کی جائے۔ ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق حکومتی ریکارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ اس تجویز کے فوراً بعد وزیراعظم کے دفتر نے گوگل، یوٹیوب، میٹا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لاکھوں ڈالر کے اشتہارات کی مہم شروع کر دی۔
یوٹیوب پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک ویڈیو، جسے اس خفیہ مہم کے تحت زور و شور سے پروموٹ کیا گیا، میں دعویٰ کیا گیا: “غزہ میں کھانا موجود ہے، اس کے برعکس کوئی بھی بات جھوٹ ہے۔” اس ویڈیو کو اب تک 60 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ اسے گوگل کے اشتہاری نیٹ ورک Display & Video 360 کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
پروپیگنڈا نیٹ ورک کا پھیلاؤ
ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق اس پروپیگنڈا مہم کو اسرائیل نے باضابطہ طور پر “ہسبارا” کا نام دیا ہے، جو کہ عبری زبان کا لفظ ہے اور ریاستی پروپیگنڈا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
معاہدے کے تحت دیگر کمپنیوں کو بھی فنڈز فراہم کیے گئے، جن میں ایکس پر اشتہارات کے لیے 30 لاکھ ڈالر، جبکہ آؤٹ برین اور ٹیڈز کے ذریعے 21 لاکھ ڈالر شامل ہیں۔
یہ مہم ایسے وقت میں چلائی گئی جب زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس تھے۔ اگست میں اقوامِ متحدہ نے تصدیق کی کہ غزہ کے گورنریٹ میں باضابطہ طور پر قحط کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جبکہ دیر البلح اور خان یونس میں بھی قحط کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (OCHA) نے صورتحال کو “ایک بڑے پیمانے کے قحط کی طرف تیز رفتار زوال” قرار دیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک بھوک کے باعث 367 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 131 بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزرا کے متنازع بیانات
اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے بیان دیا کہ فلسطینی چاہیں تو بھوک سے مر جائیں یا ہتھیار ڈال دیں۔
اسی دوران اسرائیلی وزیرِ ورثہ امیخائی ایلیاہو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ فلسطینیوں کو بھوکا مرنا چاہیے اور وہ اگر چاہیں تو ہجرت پر بھی غور کریں۔
اقوامِ متحدہ اور سول سوسائٹی کو نشانہ بنانا
ڈراپ سائٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ پروپیگنڈا مہم عالمی اداروں کو بدنام کرنے پر بھی مرکوز ہے۔ اشتہارات میں اقوامِ متحدہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ “امدادی سامان کی ترسیل میں دانستہ رکاوٹ ڈال رہا ہے” اور ساتھ ہی اسرائیل، امریکہ اور چند یورپی اتحادیوں کی حمایت یافتہ ایک جعلی تنظیم “غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” کو فروغ دیا گیا۔
اسی مہم کے تحت اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کو بھی بدنام کیا گیا، جس کی تصدیق پہلے Wired کی ایک رپورٹ میں بھی کی گئی تھی۔ اسرائیلی وزارتِ ڈائسپورا کی عہدیدار حداس مائیمون نے اعتراف کیا کہ حکومت تقریباً ایک سال سے اینٹی-یو این آر ڈبلیو اے مہم چلا رہی ہے۔
مزید برآں، پروپیگنڈا مہم میں فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن پر بھی حملے کیے گئے، جو اسرائیلی جنگی جرائم کی دستاویزی ثبوت فراہم کر رہی ہے، اور اسے “انتہا پسند نظریات سے وابستہ” قرار دیا گیا۔
گوگل پر بڑھتی تنقید
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گوگل پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے گوگل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی سے منافع کما رہا ہے، خاص طور پر اسرائیلی فوج کے ساتھ پراجیکٹ نیمبس کے تحت کیے گئے کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدے کی وجہ سے۔
گوگل کے شریک بانی سرگئی برن نے مبینہ طور پر اندرونی اجلاس میں اقوامِ متحدہ کی تنقید کو “شفاف یہود مخالف رویہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ایرانی اہداف پر اسرائیلی جارحیت کی تشہیر
ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق یہ پروپیگنڈا معاہدے صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ “آپریشن رائزنگ لائن” کے دوران ایران پر اسرائیلی حملوں کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کیے گئے۔ ایرانی حکومت کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 935 ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔ وزیراعظم کے دفتر نے گوگل سمیت دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سطح پر ان حملوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

