منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نے افغانستان کو 105 ٹن امدادی سامان روانہ کیا

پاکستان نے افغانستان کو 105 ٹن امدادی سامان روانہ کیا
پ

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان نے بدھ کے روز افغانستان میں آنے والے حالیہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے 105 ٹن انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی سامان روانہ کیا۔ یہ اقدام ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔ حکومت کے مطابق امدادی سامان میں خوراک، ادویات، خیمے، کمبل اور ببل میٹس شامل ہیں تاکہ زلزلہ متاثرین کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں متاثرین سے گہری ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

گزشتہ اتوار افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے بعد لوگ شدید آفٹر شاکس کے خوف سے کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہوگئے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ طالبان حکام کے مطابق زلزلے سے 1,400 سے زائد افراد جاں بحق اور 3,300 سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں افغانستان کو آنے والا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں صوبہ کنڑ میں ہوئیں جبکہ ننگرہار اور لغمان میں بھی درجنوں اموات اور سینکڑوں زخمی رپورٹ ہوئے۔

کنڑ کے ضلع نرگل میں مقامی حکام کے مطابق کئی دیہات اب بھی امداد سے محروم ہیں کیونکہ زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ نے پہلے سے کٹے ہوئے علاقوں تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے۔ غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن نے بتایا کہ ان کی ایک ٹیم کو طبی سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر مقامی افراد کی مدد سے 20 کلومیٹر پیدل چل کر ان دیہات تک پہنچنا پڑا جو لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کٹ گئے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب بھی کئی لوگ منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے مطابق دو دن میں 155 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے تقریباً 2,000 زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کنڑ کے گاؤں مزار درہ میں ایک چھوٹا موبائل کلینک زخمیوں کے علاج کے لیے قائم کیا گیا، لیکن متاثرین کے لیے خیمے فراہم نہیں کیے گئے۔ طالبان حکومت کی ایک کمیشن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرین کی زندگیوں کو جلد معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ڈپٹی ترجمانِ حکومت حمد اللہ فطرت کے مطابق خاص کنڑ ضلع میں ایک کیمپ قائم کیا گیا ہے جبکہ دو دیگر مراکز زلزلے کے مرکز کے قریب کھولے گئے ہیں تاکہ زخمیوں کی منتقلی، جاں بحق افراد کی تدفین اور زندہ بچ جانے والوں کی مدد کی نگرانی کی جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس تباہی سے لاکھوں افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ کئی ممالک نے امداد کا اعلان کیا ہے، تاہم این جی اوز اور اقوامِ متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر امداد میں کٹوتیوں کے بعد فنڈز کی کمی اس بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرسکتی ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جو دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین