منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیل کا امریکی کانگریس پر مکمل کنٹرول تھا٬ ٹرمپ

اسرائیل کا امریکی کانگریس پر مکمل کنٹرول تھا٬ ٹرمپ
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ماضی میں اسرائیل کا امریکی کانگریس پر مکمل کنٹرول تھا، تاہم اب اس کا لابی اثر و رسوخ نمایاں طور پر کمزور پڑ گیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ڈیلی کالر کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ بیس سال قبل تک اسرائیل کا کانگریس میں سب سے طاقتور لابی نیٹ ورک موجود تھا، جس کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔

ٹرمپ کے مطابق٬ اگر آپ بیس سال پیچھے جائیں تو میں آپ کو بتاؤں گا کہ کانگریس میں اسرائیل کی لابی سب سے طاقتور تھی۔ کسی ریاست، کسی کمپنی یا کسی بھی ادارے کی لابی اتنی مضبوط نہیں تھی جتنی اسرائیل کی تھی۔ آج اس کا لابی نیٹ ورک اتنا طاقتور نہیں رہا۔ یہ حیران کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کوئی بھی سیاست دان اسرائیل کے خلاف بات نہیں کر سکتا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور امریکی سیاست میں اسرائیل کے ناقدین کی تعداد بڑھ گئی ہے۔

ٹرمپ نے خاص طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے "اسکواڈ” کا حوالہ دیا، جس میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، الہان عمر، ایانا پریسلی اور راشدہ طلیب شامل ہیں، جو اسرائیل مخالف مؤقف کے لیے مشہور ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق، غزہ میں جاری اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع، جو سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی گروپ کے جنوبی اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد شروع ہوا، نے اسرائیل کے اثر و رسوخ کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ شاید جنگ جیت رہے ہیں، لیکن دنیا کی پبلک ریلیشنز کی جنگ نہیں جیت رہے، اور یہ ان کے لیے نقصان دہ ہے۔

تاہم، انہوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے لیے ان سے زیادہ کسی نے کچھ نہیں کیا۔ ٹرمپ کے مطابق، انہیں بدلے میں اسرائیل کی جانب سے "بہترین حمایت” بھی حاصل ہوئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین