منگل, فروری 17, 2026
ہومبین الاقوامینیتن یاہو کی رہائشگاہ کے قریب مظاہرے، غزہ میں جنگ بندی کا...

نیتن یاہو کی رہائشگاہ کے قریب مظاہرے، غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
ن

مقبوضہ القدس (مشرق نامہ) – اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اور ان کے حامیوں نے بدھ کی صبح بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا، جن میں غزہ پر جاری جنگ کے خاتمے اور حماس کے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق مظاہرے بدھ کو مقبوضہ القدس میں شروع ہوئے اور توقع ہے کہ ہفتے تک جاری رہیں گے۔ ان مظاہروں کو یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اور ان کے حمایتی گروپ منظم کر رہے ہیں، جنہوں نے "یومِ خلل” (Day of Disruption) کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے کہ جنگ ختم کی جائے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ طے کیا جائے۔

نیتن یاہو کی رہائشگاہ کے باہر آگ اور دھرنا

مظاہروں کا سب سے بڑا مرکز وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائشگاہ کے قریب غزہ اسٹریٹ پر رہا، جہاں مظاہرین نے خیمے نصب کیے اور ری سائیکلنگ کنٹینرز کو آگ لگا کر ایک "آگ کا دائرہ” بنا دیا۔ آگ نیتن یاہو کی سرکاری رہائشگاہ سے محض سو میٹر کے فاصلے پر بھڑک اٹھی۔

تل ابیب میں بھی احتجاج کی لہر

مظاہرے تل ابیب تک پھیل گئے ہیں اور شرکا نے مختلف مقامات، بشمول کنیسٹ اور غزہ اسٹریٹ، پر دھرنے اور احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہفتے کی شام تل ابیب کے پیرس اسکوائر میں ایک مرکزی مارچ کے ذریعے احتجاجی سلسلے کا اختتام کیا جائے گا۔

ان مظاہروں میں نمایاں شرکا میں یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلِ خانہ شامل ہیں، جن میں ماتان کی والدہ اناٹ انگریسٹ، نیمروڈ کی والدہ ویکی کوہن، اور وہ رشتہ دار شامل ہیں جن کے بیٹے غزہ میں تعینات ہیں یا جنگ کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔

تل ابیب میں درجنوں ہائی ٹیک کمپنیوں، جن میں Monday، Wix اور Fiverr شامل ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو احتجاجی کیمپ میں شامل ہونے کی اجازت دیں گی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سرونا کمپلیکس، کپلن اسٹریٹ سے خصوصی بسیں فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی بڑے انویسٹمنٹ فنڈز نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مظاہروں کے دائرہ کار کے پھیلنے پر پولیس نے مقبوضہ القدس کے داخلی راستوں اور مرکزی شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے، جبکہ تل ابیب میں بھی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین