بدھ, اپریل 8, 2026
ہومنقطہ نظرحزب اللہ کے ہتھیار اور شام، پی ایل او اور الجزائر کے...

حزب اللہ کے ہتھیار اور شام، پی ایل او اور الجزائر کے اسباق
ح

تحریر: حسن فقیہ

حزب اللہ کے ہتھیار محض اسلحہ نہیں بلکہ لبنان کی ڈھال ہیں۔ ان کے بغیر لبنان شام کی طرح ایک ایسی سرزمین بننے کے خطرے سے دوچار ہے جو غیر ملکی استحصال کے لیے کھلی ہو، جہاں ’’امن‘‘ کا مطلب غلامی اور محکومی ہو۔

شام میں بشارالاسد کی حکومت کے ’’ہیئت تحریر الشام‘‘ (HTS) کے قبضے میں گرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، جو القاعدہ کا ایک عسکری دھڑا ہے، صہیونی حکومت نے ایک آپریشن شروع کیا جسے ’’آپریشن ایرو آف بشان‘‘ کا نام دیا گیا۔ جیسا کہ اس بائبلی عنوان سے ظاہر تھا، اس آپریشن کا مقصد جنوبی شام پر قبضہ جمانا تھا۔

اسی وقت، زمینی جارحیت کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام بھر میں متعدد فضائی حملے کیے، جن میں شامی عرب افواج کے اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔

ہیئت تحریر الشام کے کچھ حامیوں نے ان فضائی حملوں کو اسد حکومت کے خلاف ایک ’’فتح‘‘ کے طور پر سراہا، مگر حقیقت یہ تھی کہ اسرائیلی افواج شام کے دفاعی ڈھانچے کو تباہ کر کے اسے مستقبل میں دشمنانہ کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کی کسی بھی صلاحیت سے محروم کر رہی تھیں۔

یہی مغربی طاقتوں کا اصل مقصد تھا۔ 2011 سے شام پر مسلط کی گئی جنگ اور حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کے پیچھے مرکزی ہدف یہ تھا کہ شام کو ایک ایسے خالی خول ریاست میں بدل دیا جائے جس کے پاس اپنے دفاع کی کوئی صلاحیت نہ ہو۔ اس صورت میں ’’اسرائیل‘‘، امریکہ، ترکی اور دیگر مغربی و خلیجی ممالک آسانی سے داخل ہو سکتے، وسائل لوٹ سکتے اور بنا کسی جواب دہی کے نکل سکتے۔

شام کے ساتھ یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ خودساختہ نئے صدر احمد الشرعہ (جو پہلے ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے) اب ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی راہ پر گامزن ہیں، اور اس کے بدلے میں انہیں پابندیوں میں نرمی اور ایک نیا ’’تشخص‘‘ ملے گا — دہشتگرد سے ’’ہیرو‘‘ تک۔

مگر الشرعہ کے تل ابیب سے بڑھتے روابط کے باوجود، صہیونی فضائیہ اب بھی شام کی فضائی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہے، اس کی خودمختاری کو روندتی ہے، اور سرکاری ٹھکانوں پر بغیر کسی خوف کے حملے جاری رکھتی ہے۔

شام کے پاس دفاعی ہتھیاروں کی کمی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ صلاحیتیں کتنی اہم تھیں، خصوصاً ’’اسرائیل‘‘ جیسے دشمن کے خلاف۔ یہ اسلحہ کسی ملک کو اپنی خودمختاری قائم رکھنے کے قابل بناتا ہے اور اسے اپنے اردگرد کے خطے میں دوسروں کی ضرب کا آسان ہدف بننے سے بچاتا ہے۔

شام کے بعد، حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سے لبنان پر بھی وہی دباؤ بڑھا، خاص طور پر اس کے بعد جب حزب اللہ نے صہیونی قبضے کے خلاف کامیاب مزاحمت دکھائی۔

’’اسرائیل‘‘، مغرب اور لبنان کے اندر مغرب نواز سیاسی جماعتیں اس مقصد کے لیے کوشاں ہیں کہ حزب اللہ کے ہتھیار چھین کر لبنان کو شام جیسا بنا دیا جائے، تاکہ ’’اسرائیل‘‘ اور بیروت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی راہ ہموار ہو سکے۔

حزب اللہ کے ہتھیاروں پر زور و شور سے بحث جاری ہے، مگر اسی دوران ’’اسرائیل‘‘ لبنانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے، لبنانی فضاؤں میں داخل ہو کر نگرانی کرتا ہے، سرحدی علاقوں میں گھروں کو مسمار کرتا ہے، اور لبنانی عوام کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے۔

حیران کن طور پر وہی لبنانی حکومت، جو مزاحمت کے ہتھیار اتروانے کی وکالت کر رہی ہے، امریکی ثالثی مذاکرات پر بھروسہ کر کے خود کو دھوکے میں رکھے ہوئے ہے کہ ان کارروائیوں کو روکا جا سکتا ہے۔

لبنان کی ماضی کی مثال: پی ایل او کا تجربہ

لبنان پہلے بھی ایک بڑے مخالف عسکری گروہ کے غیر مسلح ہونے کا خمیازہ بھگت چکا ہے، یعنی 1982 میں فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے معاملے میں۔

اس واقعے کا آغاز ’’اسرائیل‘‘ کے لبنان پر دوسری یلغار کے نتیجے میں ہوا — پہلی یلغار 1978 میں ہوئی تھی — جس کا بہانہ یہ بنایا گیا تھا کہ جنوب لبنان میں موجود پی ایل او کی افواج شمالی مقبوضہ علاقوں پر حملے کر رہی ہیں۔

اسرائیلی افواج نے پیش قدمی کرتے ہوئے بیروت کا محاصرہ کر لیا، جس سے لبنانی اور فلسطینی شہریوں کے لیے ایک سنگین بحران پیدا ہو گیا۔

امریکی قیادت میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے تاکہ پی ایل او کو لبنان سے نکالا جا سکے، بدلے میں شہریوں کے تحفظ اور تشدد میں کمی کا وعدہ کیا گیا۔ ان مذاکرات میں پی ایل او سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے۔

پی ایل او نے سعودی اثر و رسوخ کے ذریعے واشنگٹن کو متاثر کرنے کی کوشش کی تاکہ یاسر عرفات غیر مسلح ہونے کا فیصلہ نہ کریں، مگر آخرکار اگست کے آخر میں عرفات نے جنگ بندی قبول کر لی۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 517 کے تحت، پی ایل او نے بیروت سے اپنی مسلح افواج کو باہر منتقل کرنے پر اتفاق کر لیا۔

مگر اس فیصلے کے فوراً بعد، 14 ستمبر کو، لبنان کے منتخب صدر اور فالنچسٹ کمانڈر بشیر جمییل بیروت کے اشرفیہ علاقے میں پارٹی اجلاس کے دوران ایک دھماکے میں مارے گئے۔

اگرچہ اس حملے کو ’’شامی سوشلسٹ نیشنل پارٹی‘‘ (SSNP) کے حبیب شرتونی سے منسوب کیا جاتا ہے، مگر انتہائی دائیں بازو کی فالنچسٹ ملیشیا نے، صہیونی منظوری اور نگرانی میں، اس واقعے کو بہانہ بنا کر بدنام زمانہ صبرا و شتیلا قتلِ عام انجام دیا، جس میں کم از کم 1,500 نہتے لبنانی اور فلسطینی شہری قتل کیے گئے۔

یہ قتل عام اس وقت روکا جا سکتا تھا اگر پناہ گزین کیمپوں کے پاس دفاع کے وسائل موجود ہوتے۔

پی ایل او کے بیروت سے نکلنے کے بعد، کئی انقلابی اور قوم پرست گروہ ’’اسرائیل‘‘ کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے۔ انہی میں ایک نیا گروہ بھی شامل تھا — ایک ابھرتا ہوا حزب اللہ۔

اپنے ابتدائی دنوں سے ہی حزب اللہ نے صہیونی قابض افواج کے مقابلے میں خود کو دیگر گروہوں سے زیادہ مؤثر اور طاقتور ثابت کیا۔ اس کے آپریشنز جسمانی اور نفسیاتی دونوں سطحوں پر دشمن کے لیے زبردست دھچکا ثابت ہوتے تھے۔

ان اولین کارروائیوں میں سے ایک 11 نومبر 1982 کو صور ہیڈکوارٹرز پر دھماکہ تھا، جس میں ایک نوجوان مزاحمتی کارکن احمد قصیر نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں قائم صہیونی افواج کے ہیڈکوارٹر پر کار بم حملہ کیا۔ اس آپریشن میں کم از کم 70 صہیونی فوجی ہلاک ہوئے۔

حزب اللہ کے شہید سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے 2022 کی ایک تقریر میں احمد قصیر کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا یہ اقدام اسرائیلی خواب کو توڑنے والا تھا اور لبنان کی آزادی کی جدوجہد کا نقطہ آغاز بن گیا۔

سید نصراللہ نے کہا تھا کہ قصیر کا آپریشن دشمن کے لیے زلزلہ ثابت ہوا اور اس نے اسرائیلی خواب و خواہشات کو چکناچور کر دیا کہ لبنان کو صہیونی دور میں لے آیا جائے۔

لبنانی مزاحمت نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی مؤثر حکمتِ عملی اور عسکری مہارت ثابت کی۔ حزب اللہ نے غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) کے ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے صہیونی افواج اور ان کے لبنانی اتحادیوں، جنوبی لبنان آرمی (SLA)، دونوں کو سخت نقصان پہنچایا۔

حزب اللہ کی طاقت اور عزم نے قابض افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ مزاحمتی جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں منظم زمینی کارروائیاں کیں، صہیونی ٹھکانوں کو تباہ کیا اور ان کے اتحادیوں کو علاقے سے نکال باہر کیا۔

آخرکار، 24 مئی 2000 کو، ’’اسرائیل‘‘ کو لبنانی علاقے سے اچانک پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یہ پسپائی اتنی اچانک تھی کہ صہیونی افواج کے ساتھ تعاون کرنے والی SLA کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب مزاحمتی جنگجو ترک شدہ SLA کے اڈوں میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ کھانے کی پلیٹیں جوں کی توں رکھی تھیں، جنہیں SLA کے فوجی صہیونی انخلا کی خبر سنتے ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ حزب اللہ کی ’’اسرائیل‘‘ کے خلاف پہلی بڑی فتح کے طور پر تاریخ میں درج ہو گیا۔

دشمن پر بھروسہ

اصل مسئلہ یہ ہے کہ لبنانی عوام اور ریاست سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے علاقائی اور آئینی دشمن پر اندھا اعتماد کریں — ایسے وقت میں جب یہی دشمن اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا کھلے عام اعلان کر رہا ہے۔

حزب اللہ اور مغربی ایشیا کے دیگر مزاحمتی رہنما، بشمول مختلف یہودی ربی حضرات اور سیاسی ماہرین، بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ’’اسرائیل‘‘ محض ایک یہودی بستی نہیں بلکہ ایک سیاسی توسیع پسند منصوبہ ہے۔

لبنان سے جو مطالبہ کیا جا رہا ہے، وہ گویا زہر سے یہ توقع رکھنے کے مترادف ہے کہ وہ پھیلنے سے باز آ جائے گا۔

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ماضی کی تحریکوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں حزب اللہ کا تقابل الجزائر کی نیشنل لبریشن فرنٹ (FLN) سے کیا جا سکتا ہے، جو فرانسیسی استعمار کے خلاف سب سے بڑی مزاحمتی تحریک تھی۔

فرانس نے 1834 سے الجزائر پر قبضہ کر رکھا تھا۔ 1954 میں، FLN کے عسکری ونگ، آرمی ڈی لبریشن نیشنل (ALN) نے فرانسیسی آبادکاروں کے خلاف گوریلا جنگ کا آغاز کیا، جو فرانسیسی قبضے سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہے تھے۔

جلد ہی الجزائر کے تمام قوم پرست گروہ FLN کے جھنڈے تلے متحد ہو گئے، اور اسے فرانس مخالف واحد مزاحمتی قوت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

FLN نے الجزائر کے عوام کی حمایت کو اس طرح مضبوط کیا کہ انہوں نے فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا مذاکرات سے انکار کر دیا۔

مشہور فلسفی فرانز فینن اپنی کتاب ’’بدبختانِ ارض‘‘ (Wretched of the Earth) میں FLN کے منشور کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ FLN نے ایک مشہور پمفلٹ میں کہا کہ نوآبادیاتی نظام صرف اس وقت اپنی گرفت ڈھیلی کرتا ہے جب اس کے گلے پر چھری رکھی جائے۔ کسی الجزائری کو یہ الفاظ سخت نہیں لگے، کیونکہ ہر الجزائری کے دل میں یہی بات تھی: نوآبادیات کوئی سوچنے والی مشین نہیں، یہ جسمانی طاقت اور جبر پر مبنی نظام ہے۔

الجزائر کے عوام نے سمجھ لیا تھا کہ درخت کو جڑ سے اکھاڑنا، شاخوں کو کاٹنے سے کہیں زیادہ مؤثر ہے۔ قابضین کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بجائے ان کے خلاف مسلح جدوجہد ہی آزادی کا واحد راستہ تھا۔

فرانسیسی حکام کا مطالبہ یہ تھا کہ الجزائر کی آزادی پر کسی بھی بات چیت سے پہلے FLN ہتھیار ڈال دے۔

16 ستمبر 1959 کو، فرانس کے صدر شارل ڈیگال نے ’’پیس آف دی بریوز‘‘ (Paix des Braves) نامی منصوبے میں الجزائر کی مزاحمت کو ’’باعزت ہتھیار ڈالنے‘‘ کی پیشکش کی۔

ڈیگال نے کہا کہ FLN کے جنگجو ’’شجاعت سے لڑے‘‘ ہیں، اس لیے اب انہیں ہتھیار ڈال کر اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہیے، تاکہ ’’نفرت ختم ہو سکے‘‘۔

مگر الجزائری مزاحمت نے فرانسیسی وعدوں پر بھروسہ کرنے سے انکار کر دیا۔ FLN نے لڑائی جاری رکھی اور بالآخر فرانس کو پسپائی پر مجبور کر کے الجزائر کو آزادی دلا دی۔

حزب اللہ کے عروج کے بعد، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا اور اسے لبنان میں صہیونی مخالف مزاحمتی قوت کے طور پر مرکزی حیثیت حاصل ہوئی، پہلی بار ہتھیار ڈالنے کی آوازیں 1989-1990 میں ہونے والے طائف معاہدے کے دوران بلند ہوئیں۔

اس معاہدے میں لبنانی دھڑوں کے درمیان خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے متعدد شرائط طے کی گئیں۔ کئی سیاسی جماعتوں نے حزب اللہ کو بھی دیگر ملیشیاؤں کی طرح غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، حزب اللہ نے اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھی کیونکہ اسے ’’ملیشیا‘‘ کے بجائے ’’قومی مزاحمتی تحریک‘‘ تسلیم کیا گیا۔

2000 میں صہیونی افواج کو لبنان سے پسپا ہونے پر مجبور کرنے کے بعد، امریکہ اور فرانس جیسے مغربی ممالک نے حزب اللہ پر دباؤ بڑھایا کہ وہ ہتھیار ڈال دے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ’’اسرائیل‘‘ اب لبنان سے نکل چکا ہے، لہٰذا مسلح مزاحمت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

’’اسرائیل‘‘ نے بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر زور دیا، 1978 کی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 425 کا حوالہ دیتے ہوئے، جس کے تحت جنوبی لبنان میں ایک عارضی فورس تعینات کی جانی تھی۔

تاہم حقیقت یہ تھی کہ صہیونی افواج 2000 میں انخلا کے باوجود لبنانی سرزمین پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے تھیں اور وقفے وقفے سے لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیاں کر رہی تھیں — کبھی زمینی حملوں کے ذریعے، کبھی فضائی نگرانی اور بمباری کے ذریعے۔

حزب اللہ کو متعدد بار غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا، خصوصاً 2006 کی جولائی جنگ میں ’’اسرائیل‘‘ کو دوسری شکست دینے کے بعد۔ ان مطالبات کو اقوام متحدہ کی قرارداد 1559 اور 1701 کے ذریعے بار بار دہرایا گیا۔

الجزائر کے FLN کو فرانسیسی حکومت کی جانب سے ’’پیس آف دی بریوز‘‘ یعنی ’’باعزت ہتھیار ڈالنے‘‘ کی جو پیشکش کی گئی تھی، بالکل اسی طرز کی پیشکش امریکہ نے حزب اللہ کے سامنے رکھی۔

سید حسن نصراللہ نے 3 مارچ 2006 کی ایک تقریر میں، یعنی جولائی جنگ کے آغاز سے چار ماہ قبل، انکشاف کیا تھا کہ 2000 میں اسرائیلی انخلا کے بعد امریکہ نے انہیں براہِ راست ایک پیشکش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سال 2000 کے بعد بھی ہمیں لالچ دینے کی کوشش ناکام رہی۔ ایک پیشکش کی گئی کہ ہمارا نام دہشت گردی کی فہرست سے نکال دیا جائے گا، لبنان کی سیاست کے دروازے ہم پر کھول دیے جائیں گے، دنیا کے دروازے بھی وا کر دیے جائیں گے، حتیٰ کہ شبعا فارمز بھی ہمیں واپس کر دیے جائیں گے۔ اس کے لیے کسی لبنانی یا شامی دستاویز یا اقوام متحدہ کی تصدیق کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ قیدیوں کی رہائی، بڑے مالی پیکجز، اور جنوبی لبنان کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا — بس ایک شرط تھی کہ ہم مزاحمت چھوڑ دیں اور ہتھیار ڈال دیں۔

مزید تفصیلات 30 مارچ 2020 کو سید حسن نصراللہ نے ایک اور تقریر میں بتائیں، جس میں انہوں نے 11 ستمبر 2001 کے بعد امریکہ کی براہِ راست کوششوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس وقت کے نائب صدر ڈک چینی نے ایک خصوصی نمائندہ بیروت بھیجا، جو بظاہر لبنانی نژاد صحافی کے طور پر آیا تھا لیکن حقیقت میں امریکی ایلچی تھا۔

سید نصراللہ نے کہا کہ اس ایلچی نے مجھ سے کہا کہ امریکہ ہمیں حکومت میں شریک کرنے کے لیے تیار ہے، اربوں ڈالر دے گا تاکہ جنوب اور بقاع کی تعمیرِ نو ہو، قیدیوں کو رہا کرے گا، ہمارا نام دہشت گردی کی فہرست سے نکالے گا، اور دنیا کے دروازے ہمارے لیے کھول دے گا۔

تاہم اس پیشکش کے ساتھ ایک بنیادی شرط منسلک تھی:

امریکہ کے ساتھ سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون

اور ’’اسرائیل‘‘ کے خلاف مزاحمت ترک کر دینا۔

سید نصراللہ نے اس امریکی ایلچی کا نام بھی واضح طور پر بتایا تاکہ اس واقعے کی سچائی پر شک نہ رہے۔ وہ ایلچی تھا جارج نادر، جو لبنانی نژاد، امریکی شہری اور واشنگٹن کے قریب ترین افراد میں سے ایک تھا۔

اگر حزب اللہ ہتھیار ڈال دیتا…

سید حسن نصراللہ کے مطابق اگر حزب اللہ امریکی پیشکش قبول کر لیتا تو:

جنوبی لبنان اور بقاع میں شہید ہونے والے تمام افراد کی قربانیاں رائیگاں جاتیں،

اور ’’اسرائیل‘‘ کے توسیع پسند منصوبے کے خلاف واحد کامیاب مزاحمتی قوت کا خاتمہ ہو جاتا۔

لیکن حزب اللہ نے مزاحمت کی راہ نہیں چھوڑی۔

لبنانی مزاحمت نے الجزائر کی طرح فیصلہ کیا کہ قابض قوتوں کے ساتھ مذاکرات نہیں بلکہ مزاحمت ہی آزادی کا راستہ ہے۔

حزب اللہ نے ’’اسرائیل‘‘ کو دو بار شکست دی:

  1. 2000 میں صہیونی فوج کا انخلا
  2. 2006 میں جولائی جنگ میں بھرپور مزاحمت

اس کے علاوہ، شام کی جنگ کے دوران حزب اللہ نے ’’داعش‘‘ کے پھیلاؤ کو روک کر لبنان کو دہشت گردوں کے قبضے سے بچایا۔

آج حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کو شام جیسا بننے سے روکے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کی طاقت لبنان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا ہونے سے بچا رہی ہے جو محض اسی حد تک خودمختار ہیں جتنا ’’اسرائیل‘‘ اور امریکہ انہیں ہونے دیتے ہیں۔

سید علی خامنہ ای نے حزب اللہ اور لبنان کے تعلق کو ایک خوبصورت استعارے میں بیان کیا کہ لبنان اور حزب اللہ کا رشتہ ایسمرالڈا اور اس کے خنجر جیسا ہے۔ ہر کوئی اسے پانا چاہتا ہے، مگر اس کا ہتھیار ہی اسے بُری نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین