بدھ, اپریل 8, 2026
ہومنقطہ نظراگر امریکہ کل اسرائیل کی حمایت ختم کر دے تو کیا ہوگا؟

اگر امریکہ کل اسرائیل کی حمایت ختم کر دے تو کیا ہوگا؟
ا

آدھے امریکی ووٹرز کا خیال ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے اور دس میں سے چھ امریکی مزید فوجی امداد کی مخالفت کرتے ہیں، حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں۔

تحریر: سائمن اسپیک مین کورڈل

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اب تک اپنے ملک کی غزہ پر جاری جنگ میں امریکہ کی غیر مشروط حمایت پر بھروسہ کرتے رہے ہیں۔

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اگرچہ کبھی کبھار غزہ میں پیدا ہونے والے بحرانوں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، مگر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایسی کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس نے تو رواں برس فروری میں یہاں تک تجویز دے ڈالی تھی کہ غزہ کی پوری آبادی کا نسلی صفایا کر دیا جائے۔

امریکی حمایت اسرائیل کی جنگی مشین کے لیے نہایت اہم رہی ہے، وہ ہتھیار فراہم کر رہی ہے جن کی مدد سے اسرائیل غزہ میں 63 ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کر چکا ہے۔ سفارتی محاذ پر بھی واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبات کو بار بار روکا ہے، باوجود اس کے کہ ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی۔

امریکہ نے اسرائیل کا دفاع بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی کیا، جہاں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات عائد ہیں، اور اس نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ان اراکین پر پابندیاں عائد کیں جنہوں نے نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کے وارنٹ جاری کیے۔

حقوقِ انسانی کی تنظیمیں امریکہ کی ممکنہ شراکت داری کو بھی ایک نسل کشی میں معاونت سے تعبیر کر رہی ہیں اور مسلسل اس پر زور دے رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت ختم کرے۔

لیکن اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اگر امریکہ کل اسرائیل کی تمام تر حمایت ختم کر دے تو صورتحال کس رخ پر جا سکتی ہے؟

الجزیرہ نے اس سوال پر چار ماہرین کی رائے لی: دفاعی تجزیہ کار حمزہ عطار، اسرائیلی سیاسی سائنسدان اوری گولڈ برگ، رائل یونائیٹڈ سروس انسٹیٹیوٹ اور سینٹر فار امریکن پروگریس کے سینئر فیلو ایچ اے ہیلیئر، اور سابق اسرائیلی سرکاری مشیر ڈینیئل لیوی۔

بین الاقوامی سطح پر کیا ہوگا؟

"میرا اندازہ ہے کہ کئی مغربی ممالک، جو ابتدا میں اسرائیل کی حمایت کرتے تھے، اب خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں اور درحقیقت اسرائیل کی شکست کے منتظر ہیں۔ ان میں جرمنی بھی شامل ہے۔ جنگ کے بعد کا وہ رشتہ جو انہیں اسرائیل سے باندھتا رہا ہے، اب اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ شاید امریکی مدد کے بغیر قائم نہ رہ سکے۔

میرا خیال ہے کہ اگر امریکی حمایت کل ختم ہو گئی تو یہ سب ممالک فوراً اسرائیل کے خلاف قدم اٹھائیں گے، اگرچہ کوئی بھی پہل نہیں کرنا چاہے گا۔

مجھے نہیں معلوم کہ یہ عمل کس شکل میں سامنے آئے گا، چاہے وہ اسرائیل پر پابندیوں کی صورت ہو یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر 7 کے تحت فوری مداخلت کا فیصلہ، لیکن یہ عمل تیز رفتاری سے ہوگا۔
— اوری گولڈ برگ

خطے میں کیا ہوگا؟ کیا اسرائیل پر حملہ ہوگا جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا ہے؟

میرا ماننا ہے کہ اگر اچانک امریکہ کو اس سارے منظرنامے سے نکال دیا جائے، تو اس کا مطلب سب سے بڑی رکاوٹ کو ہٹا دینا ہوگا، جو کسی ممکنہ تصفیے کے راستے میں حائل رہی ہے۔

اسرائیل کے لیے خطے میں خود کو حقیقی معنوں میں ضم کرنا ہمیشہ ایک ثانوی یا تیسرے درجے کی ترجیح رہی ہے، کیونکہ امریکی حمایت اسے وہ خودمختاری دیتی ہے جس کے تحت وہ من مانی کر سکتا ہے۔ ہم نے یہ رویہ فلسطینیوں، لبنانیوں اور شامیوں کے خلاف واضح طور پر دیکھا ہے۔

اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ کسی حملے سے ایک قدم دور ہے، درست نہیں۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ یہ صورتحال کئی دہائیوں سے نہیں رہی۔

شامی فوج فی الحال امریکہ کی وجہ سے اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہی بلکہ اس لیے کہ وہ مزید جنگوں میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں معلوم ہے کہ انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا؛ یہی بات دوسرے ممالک پر بھی صادق آتی ہے۔
— ایچ اے ہیلیئر

مالیاتی سطح پر کیا ہوگا؟

اسرائیل مالی طور پر امریکہ پر بہت انحصار کرتا ہے، لیکن یہ فوری طور پر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوگا۔

اسرائیل تیزی سے ہائی ٹیک ہتھیاروں کی صنعت پر منحصر ہو چکا ہے، جسے امریکہ نہ صرف مالی امداد بلکہ تقریباً لامحدود تحقیق و ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

تاہم، اسرائیل معاشی طور پر بھی امریکہ کی پشت پناہی پر انحصار کرتا ہے، جیسے ایک کوچ جو ہمیشہ پاس موجود ہو، قرضوں کی ضمانتوں اور دیگر امدادی میکانزمز کے ساتھ۔

اگر امریکی حمایت ایک دم ختم ہو جائے تو اسرائیل کے لیے حالات بلاشبہ مشکل ہو جائیں گے، اگرچہ یہ بحران فوری طور پر نہیں آئے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوں گی اور فوجی شعبہ بھی لڑکھڑانا شروع کر دے گا۔
— اوری گولڈ برگ

اسرائیلی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟

اتنا زیادہ نہیں جتنا آپ سوچتے ہیں۔ اسرائیل کی آبادکار برادری پہلے ہی اپنے نظریے میں اس قدر گم ہے کہ جو کچھ وہ خدا کا حکم سمجھتے ہیں، وہ اسے ہر حال میں جاری رکھیں گے، چاہے کچھ بھی ہو۔

نیتن یاہو بھی غالباً اپنی سیاست جاری رکھیں گے۔ وہ کوئی جادوگر نہیں ہیں؛ ان کے زیادہ تر بیانات اور اقدامات صرف اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو اسرائیلی معاشرے کے بڑے حصے کی سوچ ہے۔

یقیناً وہ اس بیانیے کو نیا رخ دے سکتے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم نے غزہ پر حملہ اس لیے کیا تاکہ ہمیں آئندہ کسی ریاست پر انحصار نہ کرنا پڑے، مگر غالب امکان ہے کہ وہ سیاسی طور پر برقرار رہیں گے۔
— اوری گولڈ برگ

امریکہ حقیقتاً اسرائیلی دائیں بازو کے لیے ایک ایسا تحفہ رہا ہے جو مسلسل ملتا رہا ہے۔ اگر ڈیموکریٹ اقتدار میں ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں: ‘دیکھو، ہم انہیں کس قدر کامیابی سے قابو میں رکھے ہوئے ہیں۔’

اور اگر کوئی ٹرمپ جیسا شخص اقتدار میں ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں: ‘دیکھو، ہم جو کر رہے ہیں بالکل درست ہے، امریکہ ہم سے متفق ہے۔’

ہر صورت میں، انہیں سیاسی جواز ملتا ہے۔ امریکی حمایت کے بغیر وہ جواز نہیں رہے گا۔

داخلی سیاست کے تناظر میں اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں بھی امریکہ اسرائیل کو مکمل استثنیٰ دیتا ہے۔ اسرائیلی سیاستدان غزہ پر نسل کشی کی جنگ مسلط کر سکتے ہیں یا آبادکاری کی حمایت کر سکتے ہیں، اور اس پر انہیں کوئی قیمت نہیں چکانی پڑتی۔

کسی بھی اور معاشرے میں اس کی قیمت یا تو دیگر ریاستیں چکواتیں یا معاشرے کا اپنا اخلاقی ضمیر۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس دونوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے۔
— ڈینیئل لیوی

اسرائیلی فوج پر کیا اثر پڑے گا؟

"اگر امریکہ کل اچانک منظر سے غائب ہو جائے تو اسرائیل اپنی غزہ پر جنگ لگ بھگ ایک سال تک جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس کی ترجیحات لازمی طور پر بدل جائیں گی کیونکہ وہ خود کو کہیں زیادہ غیر محفوظ محسوس کرے گا۔

مثال کے طور پر، انہیں یہ شدت سے احساس ہوگا کہ غزہ میں استعمال ہونے والا ہر گولہ بارود ان کی اپنی دفاعی صلاحیت کو کم کر رہا ہے۔

امریکی مدد کے بغیر وہ کمرشل سیٹلائٹس کے بلاک کا تحفظ بھی کھو دے گا جن پر اسرائیل اپنی سرزمین کو پوشیدہ رکھنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ اس کے بعد اس کے مخالفین کو اسرائیل کے اندر تک دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔

اسرائیل دفاعی نظام جیسے آئرن ڈوم اور ایرو سسٹم سے بھی محروم ہو جائے گا جو امریکی فنڈنگ پر منحصر ہیں، جس سے اس پر حملے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

اس کے بعد اسرائیل کو دیگر فوجی سپلائرز تلاش کرنا ہوں گے، غالباً نیٹو کے یورپی ممالک میں، کیونکہ زیادہ تر اسلحہ اسی معیار کے مطابق ہے۔ لیکن یورپ پہلے ہی روس کے خطرے کے مقابلے کے لیے ہتھیاروں کی قلت کا شکار ہے، لہٰذا یہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔

مزید یہ کہ یورپ اسرائیل سے اسلحے کے عوض قیمت وصول کرے گا، جبکہ موجودہ امریکی فوجی امدادی پروگرام کے تحت امریکہ اسرائیل کو مفت اسلحہ دیتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی دوسرا ملک مدد کے لیے آگے بھی آ جائے، تب بھی اسرائیل موجودہ سطح پر ہتھیار خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
— حمزہ عطار

غزہ اور مغربی کنارے میں کیا ہوگا؟

میرا خیال ہے کہ جیسے ہی اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت کو امریکی حمایت ختم ہونے کا علم ہوگا، وہ فوری طور پر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرے گی۔
— اوری گولڈ برگ

مجھے لگتا ہے کہ اسرائیلی مرکزی بینک اور فوج جلد ہی یہ حقیقت تسلیم کر لیں گے کہ ان کے پاس نہ ہتھیار ہیں نہ مالی وسائل کہ وہ جنگ جاری رکھ سکیں۔

اس کے بعد، یہ منحصر ہوگا کہ دیگر ریاستیں، خطے میں اور مغرب میں، کیا اقدامات اٹھاتی ہیں۔ سیاسی اور معاشی اعتبار سے جنگ جاری رکھنا اسرائیل کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔
— ڈینیئل لیوی

میرے اندازے کے مطابق اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں وقتی حکمتِ عملی اپنائے گا تاکہ وقت خریدا جا سکے۔

اسرائیل کی ساکھ پہلے ہی عالمی رائے عامہ میں تباہی کے دہانے پر ہے، مگر امریکی حمایت نے اسے حقیقی بین الاقوامی احتساب سے بچا رکھا ہے۔

بنیادی طور پر، امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل کو ایک بین الاقوامی اجنبی ریاست کی طرح برتا جائے گا، بالکل جیسے نسل پرست جنوبی افریقہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بالآخر وہاں کی قیادت نے بھی اپنے رویے میں تبدیلی لائی، اس لیے نہیں کہ وہ خاص طور پر نیک نیت تھے، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا اور انہوں نے وہی بچانے کی کوشش کی جو بچ سکتا تھا۔
— ایچ اے ہیلیئر

مقبول مضامین

مقبول مضامین