تیانجن (مشرق نامہ) – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) ایک منصفانہ اور متوازن عالمی حکمرانی کے نظام کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اس سلسلے میں چین کے اقدامات اور تجاویز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
پیوٹن نے یہ بات پیر کے روز تیانجن میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ریکارڈ شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں ایس سی او کی کثیرالجہتی سرگرمیوں میں حقیقی دلچسپی اور توجہ موجود ہے۔
ایس سی او کی بنیاد اور کردار
پیوٹن نے کہا کہ 2001 میں قیام کے بعد سے ایس سی او کا مقصد یوریشیائی خطے میں امن، اعتماد، سلامتی اور تعاون کا ماحول پیدا کرنا رہا ہے۔ ان کے مطابق:
ایسا لگتا ہے کہ ایس سی او ایک زیادہ منصفانہ اور متوازن عالمی حکمرانی کے نظام کے قیام میں رہنما کردار ادا کر سکتی ہے، جو بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ روس نے اس حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ کی تجاویز اور اقدامات کا بغور نوٹس لیا ہے اور انہیں سراہا ہے۔
مغربی بالادستی پر تنقید
پیوٹن نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ یہ موضوع اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ اب بھی کچھ ممالک بین الاقوامی معاملات میں بالادستی کے حصول کی کوششوں سے باز نہیں آئے۔
اگرچہ انہوں نے براہِ راست مغرب یا امریکا کا نام نہیں لیا، لیکن یہ بیان روس پر بڑھتے ہوئے مغربی دباؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
ثقافتی تنوع اور روایتی اقدار کا تحفظ
پیوٹن نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور تہذیبی تنوع کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس ماہ کے آخر میں ماسکو انٹروِژن گلوکارانہ مقابلے کی میزبانی کرے گا، جسے یوروویژن کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور اس میں لاطینی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے فنکار شرکت کریں گے۔
پیوٹن نے کہا کہ یہ وسیع البنیاد منصوبہ عالمی اقدار کے فروغ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے… روایتی اقدار پس منظر میں جا رہی ہیں، وقت آ گیا ہے کہ انہیں عالمی ایجنڈے پر واپس لایا جائے۔

