بدھ, اپریل 8, 2026
ہومبین الاقوامیبیلجیم کا اعلان: اسرائیل پر پابندیاں اور فلسطین کو تسلیم کرنیکا فیصلہ

بیلجیم کا اعلان: اسرائیل پر پابندیاں اور فلسطین کو تسلیم کرنیکا فیصلہ
ب

برسلز (مشرق نامہ) – بیلجیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا اور غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے باعث اسرائیل پر پابندیاں عائد کرے گا۔ یہ اقدام بیلجیم کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کے روز سامنے آیا۔

بیلجیم، جو یورپی یونین اور نیٹو کے ہیڈکوارٹرز کا میزبان ملک ہے، نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیل پر حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور عالمی برادری غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی پر زور دے رہی ہے۔

بیلجیم کے وزیرِ خارجہ میکسم پریوو نے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی المیے کے پیشِ نظر بیلجیم نے اسرائیلی حکومت اور حماس دونوں پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسرائیلی عوام کو سزا دینے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ان کی حکومت بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی پاسداری کرے اور زمینی حقائق کو بدلنے کے لیے اقدامات کرے۔

پابندیوں کی تفصیلات

مغربی کنارے کی یہودی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی

غیر قانونی بستیوں میں رہائش پذیر بیلجیم کے شہریوں کے لیے قونصلر سہولتوں پر پابندیاں

اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا جائزہ

دو انتہاپسند اسرائیلی وزیروں، متعدد پرتشدد آبادکاروں اور حماس رہنماؤں کو بلیک لسٹ کرنا

یورپی یونین کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے کی معطلی کے لیے کوششیں

بیلجیم کے اس فیصلے سے قبل فرانس سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل دیا ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانس اور آسٹریلیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ یہود مخالف جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہیں اور کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا صرف حماس کو مزید مضبوط کرے گا۔

ادھر غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جہاں مقامی صحت حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 63,500 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے انتباہات کے باوجود اسرائیل نے غزہ میں قحط کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صرف ایسے امدادی راستے کھولے گا جو حماس کے زیرِ انتظام نہ ہوں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین