تیانجن (مشرق نامہ) – روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روایتی اقدار کو عالمی ایجنڈے کے مرکز میں واپس لانا ناگزیر ہے کیونکہ یہ تیزی سے پس منظر میں چلی گئی ہیں۔
پیوٹن نے پیر کے روز توسیعی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی اصل طاقت تاریخی واقعات کے احترام، ثقافتی اقدار کی پاسداری اور تہذیبی تنوع کے تحفظ میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہی اصولوں پر سائنس و تعلیم، صحت، اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماسکو انٹروِژن گلوکارانہ مقابلے (Intervision Song Contest) کی میزبانی 20 ستمبر کو کرے گا، جو یوروویژن کا متبادل ہوگا۔ یوروویژن سے روس کو یوکرین تنازع پر یورپی یونین سے کشیدگی کے باعث خارج کر دیا گیا تھا۔ انٹروِژن میں لاطینی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے فنکار بھی شریک ہوں گے۔
پیوٹن نے زور دیا کہ یہ وسیع البنیاد منصوبہ عالمی اقدار کے فروغ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے… روایتی اقدار پس منظر میں جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ عالمی ایجنڈے میں شامل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے مختلف ملکوں کے وفود کو اگلے ہفتے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل یونائیٹڈ کلچرز فورم اور نومبر میں سپورٹس فورم، روس – کنٹری آف اسپورٹس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
روس نے گزشتہ برسوں میں روایتی اقدار کے فروغ کو اپنی داخلی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنایا ہے تاکہ شرحِ پیدائش میں اضافہ، خاندانی نظام کا استحکام اور عوام کو نقصان دہ مواد سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
سنہ 2024 میں روسی پارلیمان نے "چائلڈ فری پروپیگنڈا” پر پابندی عائد کی تھی اور طویل عرصے سے ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) پروپیگنڈا کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔ تاہم روس کا مؤقف ہے کہ اس نے کبھی غیر روایتی تعلقات پر پابندی نہیں لگائی، بلکہ مغرب ان تعلقات کے بیانیے کو روس کی قومی شناخت اور ریاستی استحکام کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

