بدھ, اپریل 8, 2026
ہومبین الاقوامیبیلجیم کا اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنیکا اعلان

بیلجیم کا اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنیکا اعلان
ب

برسلز (مشرق نامہ) – بیلجیم نے ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا گیا ہے۔

بیلجیم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں تسلیم کیا جائے گا اور اسرائیلی حکومت کے خلاف سخت پابندیاں بھی نافذ کی جا رہی ہیں۔

جولائی میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی اعلان کیا تھا کہ فرانس اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران فلسطین کو تسلیم کرے گا، جس کے بعد ایک درجن سے زائد ممالک اسی مؤقف کی حمایت کر چکے ہیں۔

میکسم پریوو نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ "غزہ میں جاری انسانی المیے” کے پیش نظر کیا گیا ہے، جہاں اسرائیلی جارحیت کے باعث زیادہ تر آبادی کم از کم ایک مرتبہ بے گھر ہو چکی ہے اور اقوام متحدہ قحط کی صورتحال کا اعلان کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے پیش نظر، جن میں نسل کشی کے خطرے کو روکنے کا فریضہ بھی شامل ہے، بیلجیم کو اسرائیلی حکومت اور حماس کے شدت پسندوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پڑے۔

پریوو کا کہنا تھا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا اسرائیلی عوام کو سزا دینے کا مقصد نہیں بلکہ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی حکومت بین الاقوامی اور انسانی قوانین کا احترام کرے اور زمینی صورتحال میں تبدیلی کے لیے اقدامات کرے۔

غزہ میں نسل کشی پر عالمی ماہرین کا متفقہ فیصلہ

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ تاحال ہزاروں فلسطینی جانیں لے چکی ہے اور عالمی سطح پر اس جنگ کو باضابطہ طور پر "نسل کشی” قرار دے دیا گیا ہے۔

یکم ستمبر کو انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف جینوسائیڈ اسکالرز (IAGS)، جو دنیا میں نسل کشی کے ماہرین کی سب سے بڑی تنظیم ہے، نے ایک قرارداد منظور کی جس میں قرار دیا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی پالیسیز اور اقدامات 1948ء کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد نسل کشی کے آرٹیکل II کے تحت قانونی تعریف کے مطابق "نسل کشی” کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ قرارداد اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کا بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں سامنا کر رہا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاعِ ذات کے تحت کی جا رہی ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ عام شہریوں پر منظم حملے، گھروں کی تباہی اور بنیادی امداد و خوراک کی فراہمی روکنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

غزہ میں شہادتوں کی تازہ اعداد و شمار

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 63,557 ہو چکی ہے، جبکہ 160,660 افراد زخمی ہیں۔
مزید برآں، مارچ 2025 کے بعد سے اب تک 11,426 افراد شہید اور 48,619 زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین