صنعاء (مشرق نامہ) – یمن کی حوثی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے میں حوثیوں کے وزیراعظم احمد الغالب الرحاوی جمعرات کے روز صنعاء میں مارے گئے۔ حملے میں حوثی حکومت کے کئی دیگر وزراء بھی مارے گئے۔
حوثی قیادت نے اس حملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان کیا۔ حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے چیئرمین مہدی المشرّت نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم انتقام لیں گے، ہم زخموں کی گہرائیوں سے فتح کا راستہ تراشیں گے۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ “حوثی دہشتگرد حکومت کے فوجی ہدف” پر کیا گیا۔ تاہم یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے۔
حملے کی تفصیلات
حوثی حکومت کے مطابق احمد الرحاوی ایک ورکشاپ کے دوران دیگر وزراء کے ہمراہ موجود تھے جب اسرائیلی فضائیہ نے عمارت کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں وزیراعظم سمیت 12 وزراء کو نشانہ بنایا گیا۔
کتنے افراد مارے گئے اس کی حتمی تعداد تاحال واضح نہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب حوثیوں نے بدھ کے روز جنوبی اسرائیل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جسے اسرائیل نے ناکام بنا دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے بھی 24 اگست کو اسرائیل نے صنعاء پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں 10 افراد ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیلی حکمتِ عملی
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتس کے مطابق، اسرائیل کا مقصد حوثیوں کو قیادت کی سطح پر کمزور کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ حزب اللہ، حماس اور اسلامک جہاد کے خلاف کرتا رہا ہے۔
حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ حملے انہیں اپنے عسکری اقدامات سے باز نہیں رکھ سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی حمایت جاری رکھیں گے اور اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گے۔

