بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانصدر زرداری نے لینڈ پورٹ اتھارٹی بل کی منظوری دیدی

صدر زرداری نے لینڈ پورٹ اتھارٹی بل کی منظوری دیدی
ص

اسلام آباد (مشرق نامہ) – صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ قانون بن گیا ہے۔ اس کے تحت ایک نیا خودمختار ادارہ قائم کیا جائے گا جو سرحدی گزرگاہوں کا انتظام سنبھالے گا اور تجارتی و مسافرانہ آمدورفت کو سہل بنائے گا۔

پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی مختلف سرحدی انتظامی اداروں کے مابین ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی۔ اس کا مینڈیٹ زمینی بندرگاہوں پر مال اور مسافروں کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانا، تاخیر کم کرنا اور تجارتی بہاؤ کو مؤثر بنانا ہوگا۔

اس اقدام کے بعد پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے بعد جنوبی ایشیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے سرحدی گزرگاہوں کے انتظام کے لیے ایک علیحدہ لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کی ہے۔

اتھارٹی کا مقصد بارڈر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ بہتر رابطہ، تجارتی سہولت کاری کو منظم کرنا اور سرحد پار روابط کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان کی بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کے تحت ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اس قانون کے نفاذ کو علاقائی تجارتی انضمام کو فروغ دینے، بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ معاشی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

11ویں این ایف سی میں تبدیلی

ایک اور اہم پیش رفت میں صدر زرداری نے 11ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کی تشکیل میں تبدیلی کی منظوری بھی دے دی۔

ایوانِ صدر کے مطابق، بلوچستان حکومت نے اپنی نامزدگی تبدیل کرتے ہوئے محفوظ علی خان کو غیرسرکاری رکن کے طور پر این ایف سی میں شامل کرنے کی سفارش کی، جسے صدر نے منظور کر لیا۔

بلوچستان حکومت نے اس سے قبل بلوچستان انویسٹمنٹ بورڈ کے سابق سی ای او فرمان اللہ خان کی نامزدگی واپس لے لی تھی۔ محفوظ علی خان اس سے قبل 5ویں، 6ویں اور 7ویں این ایف سی میں بھی صوبے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومت میں اہم عہدے سنبھالے، جن میں ایڈیشنل سیکرٹری، سیکرٹری خزانہ، اکاؤنٹس جنرل بلوچستان، کنٹرولر ملٹری اکاؤنٹس اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (نِم) بلوچستان شامل ہیں۔ وہ 2014 میں گریڈ 21 کے سیکرٹری خزانہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

پٹرولیم ترمیمی بل 2025

صدر زرداری نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ پٹرولیم (ترمیمی) بل 2025 پر بھی دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانا اور پٹرولیم سیکٹر کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور کسٹمز حکام کو غیرقانونی پٹرولیم مصنوعات اور گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی بیسڈ ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا اور خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

یہ قانون پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت کو فروغ دے گا، اسمگلنگ کے خلاف حکومتی اقدامات کو مضبوط کرے گا اور ٹیکس چوری پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

فوجداری قوانین میں ترامیم

صدر نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 کی بھی توثیق کر دی ہے۔ اس قانون کے ذریعے متعدد فوجداری دفعات میں ترامیم کی گئی ہیں تاکہ قوانین کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین