بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانصدر زرداری نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے

صدر زرداری نے انسدادِ دہشت گردی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے
ص

اسلام آباد (مشرق نامہ) – صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کے روز انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد ملک میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے جبکہ قانونی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

یہ ترمیم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ہے، جسے رواں ماہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیا گیا۔ بل کی منظوری کے دوران حزبِ اختلاف نے شدید احتجاج کیا کیونکہ اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو دوبارہ یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدرِ مملکت نے انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ "یہ قانون سکیورٹی اداروں کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ دہشت گردی کو روک سکیں اور قومی سلامتی کا تحفظ کر سکیں۔”

بیان کے مطابق، نئے قانون میں عدالتی نگرانی اور ایسے اقدامات شامل ہیں جو اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

بل کی نقل کے مطابق، حکومت یا جہاں دفعہ 4 کے تحت فوج یا سول مسلح افواج کو اختیارات دیے گئے ہوں، مخصوص یا عمومی احکامات کے تحت کسی بھی شخص کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا حکم جاری کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں۔

ترمیم کے مطابق، ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے جو قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ، تاوان کے لیے اغوا یا بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے شبہ میں ہوں۔

مزید کہا گیا کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لینے یا تین ماہ سے زائد مدت تک حراست میں رکھنے کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت طے شدہ قانونی ضمانتوں کے مطابق ہوگا۔

بل کے مطابق، اگر فوج یا سول مسلح افواج کی جانب سے کسی شخص کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اس کی تحقیقات ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کرے گی۔ جے آئی ٹی میں پولیس کے سپرنٹنڈنٹ یا اس سے اعلیٰ افسران، انٹیلی جنس ادارے، سول مسلح افواج، مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہوں گے۔

بل میں شامل وجوہات اور مقاصد کے بیان میں کہا گیا کہ ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال "ایسے مؤثر اقدامات کی متقاضی ہے جو موجودہ قانونی ڈھانچے سے بڑھ کر ہوں”۔

اس میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 11EEEE کی سابقہ ترامیم کو دوبارہ شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت، مسلح افواج اور سول مسلح افواج کو ایسے افراد کو حراست میں لینے کا اختیار دیا جا سکے جو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

بیان کے مطابق، یہ شق قابلِ اعتماد معلومات یا معقول شبہ کی بنیاد پر افراد کو پیشگی حراست میں لینے کی اجازت دے گی تاکہ دہشت گردانہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سے قبل ہی ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قانونی تحفظ ملے گا تاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر کارروائیاں کر سکیں، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کے ذریعے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور تفصیلی تحقیقات ممکن ہوں گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین