صنعا (مشرق نامہ) – خطے کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ صیہونی دشمن لبنان اور شام میں نئے اسٹریٹیجک فارمولے مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن بنیادی وسائل، بالخصوص پانی، پر قبضے کو سیاسی دباؤ اور غلبے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے خطے میں نئی طاقت کے توازن تشکیل دینا چاہتا ہے۔
سید عبدالملک نے واضح کیا کہ صیہونی منصوبے کا مقصد صرف اہم وسائل پر غیرمعمولی قیمتیں عائد کرنا نہیں بلکہ انہیں بلیک میلنگ کے آلے میں بدلنا بھی ہے تاکہ ریاستوں اور معاشروں کے فیصلوں کی آزادی سلب کی جا سکے اور ان کی خودمختاری کمزور کی جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کار وسیم بَزّی نے کہا کہ سید عبدالملک کے انتباہات فلسطینی اتھارٹی کے تجربے سے اخذ کردہ اسباق پر مبنی ہیں، جسے اسرائیلی مفادات کے تحت ایک سکیورٹی اور سیاسی ماڈل میں بدل دیا گیا تاکہ فلسطینی معاشرے کو مکمل طور پر اپنے تابع بنایا جا سکے۔
وسیم بَزّی کے مطابق صیہونی دشمن کا حتمی مقصد وہی ہے جسے سید عبدالملک نے ’’فلسطینی-لبنانی-شامی تکون‘‘ قرار دیا ہے، جو ایک اسٹریٹیجک فریم ورک ہے جس کے تحت فلسطین، لبنان اور شام میں سیاسی فیصلوں اور مسلح مزاحمتی تحریکوں پر براہِ راست کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے اسرائیل اپنے مفادات کو بغیر کسی رکاوٹ کے محفوظ بنانا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ لبنانی حکومت کی جانب سے مزاحمتی قوت کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں اسی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ ہیں، جنہیں بعض عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب، کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ ممالک لبنان پر ایسے فیصلے مسلط کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو صیہونی منصوبوں کے حق میں ہیں اور ملک کی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کو کمزور کرتے ہیں۔
شام کے بارے میں سید عبدالملک نے نشاندہی کی کہ صیہونی دشمن، امریکی حمایت کے ساتھ، اسٹریٹیجک فوجی اڈے قائم کرنے، اہم راہداریوں کو وسیع کرنے اور فوجی و سکیورٹی ڈھانچوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ زمینی راستوں، سرحدوں اور وسائل پر کنٹرول قائم کیا جا سکے۔
وسیم بَزّی کے مطابق لبنان اور شام میں امریکی موجودگی، جس میں خصوصی ایلچی، کانگریسی وفود اور سیاسی مشن شامل ہیں، دراصل ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسرائیلی عزائم کو آگے بڑھانا ہے۔ اس کے نتیجے میں قومی خودمختاری کو نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ ریاستیں اسرائیلی قبضے کے ایجنڈے کے لیے عملی میدان میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
سید عبدالملک الحوثی نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی حالیہ لبنانی حکومت کے اقدامات پر تعریف کو اس بات کا واضح ثبوت قرار دیا کہ حکومت صیہونی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے وسیم بَزّی نے خبردار کیا کہ بعض عرب حکومتوں کی بے حسی ان خطرات کو مزید بڑھا رہی ہے، جس سے اسرائیل کو لبنان اور شام میں بھی وہی ماڈل دہرانے کا موقع مل سکتا ہے جو فلسطینی اتھارٹی پر مسلط کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے صیہونی دشمن نئے سیاسی و سکیورٹی ڈھانچے تشکیل دے کر علاقائی استحکام اور قومی خودمختاری کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
مزید برآں، اسرائیل نے لبنان اور شام میں اپنے اسٹریٹیجک اثر و رسوخ کو پھیلانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جو غزہ پر جاری جنگ کے متوازی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی منصوبہ فوجی موجودگی، سیاسی دباؤ اور اقتصادی کنٹرول—خصوصاً پانی اور قدرتی وسائل پر قبضے—کو ملا کر خطے کا سیاسی نقشہ ازسرنو ترتیب دینے پر مرکوز ہے۔
لبنانی مزاحمت کو کمزور کرنے اور شام کو غیر مستحکم کرنے کی یہ کوششیں ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، جسے امریکہ اور بعض عرب حکومتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کا مقصد خطے کے فیصلوں اور مزاحمتی تحریکوں پر صیہونی بالادستی کو مستحکم کرنا ہے۔

