بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیچین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے پاک-چین اعتماد مزید گہرا

چین کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے پاک-چین اعتماد مزید گہرا
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – چارہار انسٹیٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چنگ شی ژونگ نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کو جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی منتقلی نہ صرف پاکستان کی غذائی تحفظ کی ضرورت پوری کرتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی اعتماد کو مزید گہرا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فریم ورک کے تحت زرعی تعاون مزید مستحکم ہوگا اور زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی ’’انفرادی ٹیکنالوجی کی برآمد‘‘ سے بڑھ کر ’’مکمل صنعتی سلسلے کے تعاون‘‘ میں تبدیل ہو جائے گی، جو دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مستقبل کی حامل قریبی کمیونٹی کے قیام کے لیے مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرے گی۔

پروفیسر چنگ کے مطابق چین کی ہائبرڈ فصلوں کی ٹیکنالوجیز، جیسے ہائبرڈ چاول اور ہائبرڈ گندم، کے ساتھ ساتھ خشک سالی، پانی جمع ہونے، پودوں کی بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحم بیجوں کی ٹیکنالوجیز پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار میں براہِ راست اضافے کا سبب بنیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان جدید ٹیکنالوجیز کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدن میں بہتری اور معیشت کو استحکام دینا ہے۔ چین نے پانی بچانے والی آبپاشی کی ٹیکنالوجیز جیسے ڈرپ اور اسپرنکلر اریگیشن، درست پیمائش پر مبنی کھاد کے استعمال، حیاتیاتی کیڑے مار ادویات، اور چھوٹے و درمیانے درجے کی زرعی مشینری جیسے ٹریکٹرز اور ہارویسٹرز کی ٹیکنالوجیز بھی منتقل کی ہیں، جو پیداوار کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پروفیسر چنگ نے مزید کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے زرعی شعبے میں وسائل اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور پائیدار تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، ایسے میں چین کی سبز زرعی ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی موافقت کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز ان مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین