تہران (مشرق نامہ) – ایران کی جنوب مشرقی صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایرانی پولیس نے دہشت گرد تنظیم جیش العدل کے زیر استعمال بارودی مواد تیار کرنے والی ایک ورکشاپ پر چھاپہ مار کر اقتصادی تنصیبات اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا۔
پولیس کمانڈ کے مطابق، جمعرات کے روز کی گئی کارروائی میں اس ورکشاپ سے بارودی بیلٹس، دستی بم، بھاری ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا، جو دہشت گردوں کے زیر زمین گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس دہشت گرد سیل کا منصوبہ ایران کے اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور گنجان آباد علاقوں میں دھماکے کر کے ملک بھر میں افراتفری پھیلانے کا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق چند روز قبل ہی صوبہ سیستان و بلوچستان کے انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ نے مشرقی ایران میں اب تک کی سب سے بڑی دہشت گرد سازش کو ناکام بنایا تھا۔ اس کارروائی میں ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا گیا تھا جو ایران کے ایک اہم مرکز پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
سیستان و بلوچستان: دہشت گرد سرگرمیوں کا گڑھ
سیستان و بلوچستان طویل عرصے سے شدت پسند کارروائیوں کا مرکز رہا ہے، جہاں شہریوں اور سیکیورٹی فورسز دونوں کو متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جیش العدل اور اسی نوعیت کے دیگر گروہ امریکہ اور "اسرائیل” جیسے غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار کے طور پر سرگرم ہیں اور بارہا ایران میں دراندازی کی کوشش کر چکے ہیں۔
فارس نیوز کے مطابق 22 اگست کو صوبہ سیستان و بلوچستان کے ضلع دامن میں مسلح افراد نے ایرانی پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار شہید جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل 24 اگست کو ایران-پاکستان سرحد کے قریب ایک اور بڑے آپریشن میں ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے شدید مسلح دہشت گرد سیل کو کامیابی سے ختم کر دیا۔ صوبائی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے زیر انتظام اس کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو کو گرفتار کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ سات رکنی دہشت گرد گروہ مکمل طور پر غیر ملکی شہریوں پر مشتمل تھا اور اس کے پاس جدید فوجی ساز و سامان موجود تھا، جن میں لیزر گائیڈڈ آر پی جی-7 لانچرز، امریکی ساختہ ایم4 اور ایم16 رائفلز، دستی بم، گرینیڈ لانچرز، بارودی جیکٹس اور آر پی جی اینٹی پرسنل راؤنڈز شامل تھے۔

