تحریر: حنان حسین
فلسطینی حقوق کو نظرانداز کرنا اور صہیونی مظالم پر پردہ ڈالنا کبھی بھی پائیدار اور منصفانہ استحکام کا نسخہ نہیں ہو سکتا۔
شامی حکومت مشرق وسطیٰ میں علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے، مگر اس مقصد کے لیے صہیونی ریاست کے ساتھ مصالحت کا عمل دراصل ایک الٹا نسخہ ہے۔ دمشق اس وقت ایک ایسے سیکیورٹی معاہدے کے حوالے سے پرامید دکھائی دیتا ہے جس میں "اسرائیل” کے ساتھ 1974 کی علیحدگی لائن پر واپسی اور جنوبی شام کے صوبہ سویدا میں جنگ بندی کی نگرانی جیسے پہلو شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیلی قبضہ کبھی بھی بے گناہ فلسطینیوں کے حقوق اور آزادیوں کو روندنے سے باز نہیں آیا اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگر دمشق علاقائی استحکام کو قابض ریاست کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا سوچ رہا ہے تو اس کا مطلب صرف خطے میں جارحیت کے تسلسل کے مزید راستے کھولنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی-شامی سرحد پر سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے جاری مذاکرات کے لیے امریکی حمایت کو بھرپور انداز میں مسترد کرنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات اہم ہے کہ اسرائیلی ادارے نے ہمیشہ شامی سرحد کو خطرے میں ڈالا ہے اور شام کے اندرونی ڈھانچے میں گہری تقسیم پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ یہی وہ صہیونی ریاست ہے جو اپنی مسخ شدہ "قومی سلامتی” کی تشریح کی بنیاد پر شام پر بمباری کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہی ہے۔ شام میں دروز برادری کے تحفظ کے بہانے پیش کیے جانے والے قبضے کے عزائم دمشق کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہیں۔ دروز برادری، جو خود "اسرائیل” کے اندر طویل عرصے تک امتیازی سلوک اور ظلم کا شکار رہی ہے، محض ایک بہانہ ہے تاکہ شام میں تشدد اور جارحیت کی موجودہ کیفیت کو برقرار رکھا جا سکے۔ ان حالات میں سوال یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے ساتھ استحکام کے حصول کی جستجو دمشق کی قیادت کے لیے کس حد تک درست قرار پاتی ہے؟
یہی سوال میں شام کے رہنماؤں کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ حقیقی علاقائی استحکام کے داؤ پر بہت کچھ لگا ہوا ہے۔ فلسطین-شام سرحد کا تحفظ اس وقت ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے جب قابض ریاست دمشق کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے منصوبے بنا رہی ہو لیکن شام کے ساتھ سرحدی نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ محرکات نہ رکھتی ہو۔ اس دوران غزہ میں نسل کشی جاری ہے، جنگی مجرم بینجمن نیتن یاہو غزہ پر قبضے کے عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہے اور امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ایسا نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو صہیونی ریاست کے مفاد میں ہو۔ دمشق کے لیے لازمی ہے کہ صہیونی ریاست کی شام کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنی مؤثر طاقت استعمال کرے، خاص طور پر اس کی طویل خونریزی، فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم، جارحانہ قتل و غارت مہمات اور غیر قانونی قبضے کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
فلسطینی آزادی اور حقوق، جو اب ریاست کے حقِ خودارادیت پر عالمی تحریک کے مرکز میں آ چکے ہیں، کسی بھی علاقائی استحکام کے فارمولے میں بنیادی اہمیت کے حامل ہونے چاہئیں۔ فلسطینی حقوق کو نظرانداز کرنا اور صہیونی ریاست کے مظالم سے چشم پوشی کرنا کسی صورت پائیدار اور منصفانہ امن کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ شام، جو 2023 سے لے کر آج تک اسرائیلی نسل کشی کا براہِ راست مشاہدہ کر چکا ہے، کے لیے ضروری ہے کہ وہ علاقائی امن کی اپنی تعریف پر عمل کرے۔ صہیونی ریاست کی کھل کر مذمت کرنا اور اسے تنہا کرنے کے لیے ہر ممکن مزاحمت اختیار کرنا اس کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔ قابض ریاست کو قبول کرنا، حتیٰ کہ بالواسطہ طور پر بھی، دراصل قبضے کے حق میں کھلے عام حمایت کے مترادف ہے، وہی تاثر جسے امریکہ مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیسا کہ سات صہیونی وزرائے اعظم، بشمول نیتن یاہو کے مشیر رہنے والے تجربہ کار سفارتکار شالوم لپنر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ موجودہ حالات میں یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت شام کے نئے حکمرانوں کے اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں مداخلت نہ کرنے کے بدلے کوئی اہم رعایت دینے پر غور کر رہی ہو۔
"اسرائیل” کو پسِ پشت ڈال کر علاقائی امن کے فروغ کے لیے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ قابض ریاست مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس نے ایران، لبنان، عراق، شام، یمن اور فلسطین کے خلاف جارحانہ پالیسیاں اپناتے ہوئے بارہا اس بات کو ثابت کیا ہے۔ نیتن یاہو کی داخلی عوامی حمایت کے لیے بیرونی جارحیت کا سہارا لینے کی عادت شام کے لیے ایک بڑے انتباہ کے مترادف ہونی چاہیے: یہی وہ قابض ریاست ہے جس نے علاقائی استحکام کے کھوکھلے وعدے کیے لیکن پھر شام کی سرزمین پر دہشت گرد حملے شروع کر دیے۔
قابض ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون دراصل ٹرمپ انتظامیہ کے مجرمانہ منصوبوں کو غیر ضروری جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا، جو خطے میں نارملائزیشن کے اُس سلسلے کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں جو فلسطینی خون پر استوار ہے اور عرب دنیا کے اندر مزید تقسیم پیدا کرتا ہے؛ وہ عرب دنیا جو دراصل "اسرائیل” کے دہشت گرد وجود کے خلاف متحد ہونی چاہیے۔
شام کے پاس آپشنز کی کمی نہیں ہے۔ اگر سرحدی خلاف ورزیوں کی حقیقت پسندانہ جانچ کی جائے تو توجہ خود بخود "اسرائیل” کی طرف منتقل ہو جائے گی، جو دن دہاڑے دمشق پر فضائی حملے کر چکا ہے اور مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ شام کے رہنماؤں کا دوست نہیں۔ اگر قابض ریاست امن کے قیام میں سنجیدہ ہوتی تو سب سے پہلے خود کو بین الاقوامی احتساب کے لیے پیش کرتی اور اپنے جنگی مجرموں کو کھلی چھوٹ نہ دیتی، جبکہ عالمی سطح پر احتساب کے فقدان پر احتجاج کی آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان حقائق کے تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ فلسطین-شام سرحد پر سیکیورٹی کے کسی بھی فارمولے پر پیش رفت ممکن نہیں جب تک وہی ریاست جو جارحیت اور قبضے کی دہشت گردی کی مرتکب ہے، امن کی بات چیت کی میز پر بیٹھی ہو۔
لہٰذا، شام کی قیادت کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ وہ ایک واضح لکیر کھینچے: ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ اور "اسرائیل”، اور دوسری طرف فلسطینی عوام کے حقوق اور شامی عوام کی آزادی۔ ان دونوں کے درمیان موجود تضاد اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قابض ریاست کی کاروائیاں ان لوگوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کے نام پر امن کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

