ہوانا (مشرق نامہ) – کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز نے یمن میں شہری اور سروسز تنصیبات کو نشانہ بنانے والی حالیہ اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ہے۔
منگل کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں روڈریگیز نے کہا کہ کیوبا "یمن میں شہری تنصیبات پر صہیونی حملوں کی مذمت کرتا ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور خطے میں امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہیں۔”
کیوبا کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت، اسرائیلی پالیسیوں کی مخالفت، اینٹی سامراجیت، قومی آزادی کی تحریکوں کی پشت پناہی اور ریاستی خودمختاری و عدم مداخلت کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہی ہے۔ اسرائیلی اقدامات پر تنقید اسی تاریخی موقف کا تسلسل ہے۔
یہ مذمت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے رواں ہفتے کے اوائل میں یمنی دارالحکومت صنعا پر متعدد فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کا ہدف تیل کمپنی کی تنصیب اور حَزیز پاور اسٹیشن تھے، جن میں تقریباً دس شہری شہید جبکہ 94 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ یمنی مسلح افواج نومبر 2023 سے بحیرہ احمر میں اور اسرائیلی اہداف کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یمنی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غزہ کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کی جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسرائیلی محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں یمنی فورسز کا اسرائیلی دشمن اور اس کے اتحادیوں، بالخصوص امریکہ، کے ساتھ براہِ راست تصادم جاری ہے۔

