بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیناروے: کم عمر مشتبہ شخص کی اوسلو مسجد پر حملے کی منصوبہ...

ناروے: کم عمر مشتبہ شخص کی اوسلو مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی ناکام
ن

اوسلو (مشرق نامہ) — ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک ایتھوپیائی نژاد سماجی کارکن کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے ایک کم عمر مشتبہ شخص کے بارے میں پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے ایک مسجد پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

پولیس کے مطابق 18 سالہ مشتبہ شخص کو ہفتے کی رات اوسلو کے ایک ہاسٹل میں سماجی کارکن تمیما نبرس جوہر کے قتل کے بعد گرفتار کیا گیا۔ مقتولہ 34 سالہ تمیما اسی ہاسٹل میں بطور اسٹاف رکن کام کر رہی تھیں جبکہ مشتبہ شخص وہاں رہائش پذیر تھا۔

پولیس نے کہا ہے کہ نوجوان کے خلاف قتل اور دہشت گردی دونوں الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں کیونکہ اس نے "مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی خیالات” کا اظہار کیا تھا۔

پولیس کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ملزم نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہونے فوس (Hoenefoss) نامی قصبے میں ایک مسجد پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، جو اوسلو سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

پولیس نے مزید کہا کہ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اس بات کے بھی متعدد شواہد ہیں کہ مشتبہ شخص کی مزید حملے کرنے کی صلاحیت محدود تھی۔

تحقیقات کے مطابق، نوجوان نے اکیلے ہی یہ تمام منصوبہ بندی کی تھی اور کسی گروپ یا نیٹ ورک سے اس کے تعلق کے شواہد نہیں ملے۔

مقامی میڈیا نے مشتبہ شخص کی شناخت جرمن نژاد جارج وِلمز کے طور پر کی ہے، جو بچپن میں سربیا سے ناروے منتقل ہوا تھا، تاہم پولیس نے تاحال اس شناخت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

ناروے میں حالیہ برسوں میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد کے ہاتھوں کئی پرتشدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

2011 میں نیو نازی اینڈرس بہرنگ بریوک نے اوسلو میں بم دھماکے اور پھر اوٹویا کے جزیرے پر فائرنگ کر کے 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

2019 میں فلپ مانس ہاؤس نے اوسلو کے قریب ایک مسجد میں فائرنگ کی کوشش کی تھی، لیکن اسے موقع پر قابو پا لیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق تازہ واقعہ بھی اسی شدت پسندانہ سوچ کا تسلسل ہے، تاہم ابتدائی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مشتبہ شخص کی دہشت گردانہ کارروائی کرنے کی صلاحیت محدود تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین