تحریر: گارشا وزیریان
تہران – گزشتہ دو برسوں کے دوران آسٹریلیا میں فلسطین کے حق میں سرگرمیاں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں، جہاں ملک بھر میں زیادہ کثرت اور وسعت کے ساتھ ہونے والے مظاہروں نے شہریوں کو غزہ کے ساتھ یکجہتی اور اسرائیلی فوجی اقدامات کی مذمت میں متحرک کر دیا ہے۔
یہ مظاہرے، جو اب زیادہ منظم اور مسلسل ہو چکے ہیں، فلسطینی عوام کے لیے انصاف کے مطالبے اور غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت میں آسٹریلیا کی شراکت داری کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
ابتدائی احتجاجی مظاہرے سڈنی اور میلبورن میں ہوئے جہاں ہزاروں افراد فلسطینی پرچم اٹھائے جنگ بندی کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔ 2024 کے اوائل تک یہ مظاہرے زیادہ منظم ہو چکے تھے اور ہفتہ وار بنیادوں پر جاری رہے، خاص طور پر میلبورن میں، جہاں یہودی امن کارکنوں نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف حکومتی عمارتوں پر قبضہ کرکے احتجاج کیا۔
اس سال اگست میں، دسیوں ہزار مظاہرین سڈنی ہاربر برج پر جمع ہوئے اور ایک بڑے مارچ کا انعقاد کیا۔ اس کے بعد ملک بھر کے 40 سے زائد شہروں میں بھی اسی طرز پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ منتظمین کے مطابق آسٹریلیا بھر میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار افراد نے ان مظاہروں میں حصہ لیا، جن میں بریسبین کے 50 ہزار مظاہرین سے لے کر میلبورن کے بڑے اجتماعات تک شامل تھے۔
مظاہرین نے غزہ میں جاری قتلِ عام کے خاتمے، قحط و نسل کشی کو تسلیم کرنے، اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے، آسٹریلیا کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے اور فوری جنگ بندی کے مطالبات کیے۔
سرکاری ردعمل اور بڑھتا دباؤ
سرکاری حکام کا ردعمل متضاد رہا؛ کچھ نے اس تحریک کو "تقسیمی” قرار دیا، جبکہ دیگر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا سامنا کرتے رہے۔ آسٹریلوی حکومت پر سخت تنقید کی گئی کہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کر رہی ہے — جو عوامی حلقوں میں اسرائیلی تشدد کی معاونت تصور کیا جا رہا ہے۔ مظاہروں کے منتظمین اور گرین پارٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ ان بے مثال عوامی اجتماعات کے بعد حکومت پر سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
آسٹریلیا کا تاریخی کردار اور شراکت داری
آسٹریلیا کی اسرائیل کے ساتھ طویل المدتی حمایت کا آغاز 1947 میں ہوا، جب اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں تقسیمِ فلسطین کے منصوبے کی توثیق کرنے والی کمیٹی میں آسٹریلیا شریکِ صدر تھا۔ 1949 میں آسٹریلیا نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
اس کے بعد سے اب تک آسٹریلیا کی تمام تر حکومتیں — چاہے وہ لیبر کی ہوں یا قدامت پسند — اسرائیل کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ان تعلقات میں عسکری تعاون اور دفاعی مدد بھی شامل ہے، جن میں آسٹریلیا کے فراہم کردہ پرزہ جات اسرائیلی ایف-35 جنگی طیاروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور مظاہرین کا مؤقف ہے کہ یہ تعلقات عملی طور پر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں، جس کے باعث آسٹریلیا کی "بالواسطہ شراکت داری” پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ
آسٹریلیا-اسرائیل و یہودی امور کونسل سمیت مختلف ادارے آسٹریلوی سیاسی بیانیے پر انتہائی اثرانداز سمجھے جاتے ہیں، جو ارکانِ پارلیمنٹ کے اسرائیل کے دورے بھی اسپانسر کرتے ہیں۔
سابق وزیرِ خارجہ باب کار سمیت ناقدین نے اس اثرورسوخ کو "غیرملکی اثر” قرار دیا ہے، جو پالیسی سازی اور میڈیا کے بیانیے پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔
صحافی جان لیونز نے دستاویز کیا ہے کہ کس طرح میڈیا اداروں پر اسرائیل پر تنقید کم یا بالکل نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لابی کی طرف سے فلسطین سے یکجہتی کو یہود مخالف جذبات سے جوڑنے کی کوششوں پر عوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، کیونکہ عوامی رائے اسرائیلی بیانیے سے ہٹتی جا رہی ہے۔
سفارت کاری، تسلیم اور اسرائیلی دباؤ
اگست میں وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا کہ آسٹریلیا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر میں فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر باضابطہ تسلیم کرے گا، تاہم یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہوگا کہ فلسطینی اتھارٹی ہتھیار ڈالے، اسرائیل کو تسلیم کرے اور حکومت سازی میں حماس کو شامل نہ کرے۔
اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا اُن مغربی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو "بہت کم، بہت دیر سے” قرار دیا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیتے ہوئے آسٹریلیا کے فیصلے کو "گمراہ کن” کہا اور دعویٰ کیا کہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
اسرائیل کے سفیر نے خبردار کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ "حماس کی حمایت” کے مترادف ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس تنازع نے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو بے نقاب کر دیا اور آسٹریلوی عوامی رائے اور حکومت کی محتاط سفارت کاری کے درمیان گہری خلیج کو واضح کر دیا۔
ایک ابھرتی ہوئی آواز
لیبر سینیٹر فاطمہ پائیمان 2024 کے وسط میں نمایاں ہو کر سامنے آئیں، جب انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے ایک رائے شماری میں گرینز پارٹی کے ساتھ مل کر فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ دیا، جس پر انہیں لیبر پارٹی کے پارلیمانی دھڑے سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر انہوں نے اپنی بنیادی رکنیت برقرار رکھی۔
ان کی معطلی پر اُن کے حلقے سمیت لیبر کے اندر بھی حمایت اور تنقید دونوں سامنے آئیں۔ کچھ ہی عرصے بعد، انہوں نے پارٹی سے مکمل استعفیٰ دے دیا۔
افغان نژاد مسلم خاتون اور آسٹریلوی پارلیمنٹ کی پہلی رکن ہونے کے ناطے، پائیمان نے اپنے اس اقدام کو "ضمیر کی آواز” اور "مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی” قرار دیا۔
بعدازاں انہوں نے "آسٹریلیا کی آواز” کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت قائم کی، جس کی قیادت کرتے ہوئے وہ فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے کے مطالبے، اسرائیل پر پابندیوں اور غزہ پر جنگ میں آسٹریلیا کی شراکت داری کے خاتمے کے لیے آواز بلند کر رہی ہیں۔ اب وہ آسٹریلیا میں انصاف، جواب دہی اور فلسطینی حقوق کے لیے ایک طاقتور قومی آواز کے طور پر ابھری ہیں۔

