بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیآسٹریلیا نے ایران کیخلاف اقدام میں نیتن یاہو کی مداخلت کا دعویٰ...

آسٹریلیا نے ایران کیخلاف اقدام میں نیتن یاہو کی مداخلت کا دعویٰ مسترد کر دیا
آ

کینبرا (مشرق نامہ) – آسٹریلیا نے اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی مداخلت کے باعث کینبرا میں تعینات ایرانی سفیر کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِاعظم انتھونی البانیزے نے ایران پر سڈنی اور میلبورن میں یہودی کمیونٹی پر دو حملے کرانے کا الزام لگایا تھا، جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کے روز آسٹریلوی وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے اے بی سی ریڈیو سے گفتگو میں اسرائیل کے دعوے کو "مکمل بے بنیاد” قرار دیا۔

وزیرِاعظم البانیزے نے منگل کو کہا تھا کہ آسٹریلوی انٹیلی جنس کی قابلِ اعتماد معلومات کے مطابق ایران نے کم از کم دو حملوں کی "ہدایت” دی تھی جن کا ہدف آسٹریلیا کی یہودی کمیونٹی تھی۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے اے بی سی سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم نیتن یاہو کی "براہِ راست مداخلت” کے بعد آسٹریلیا نے یہ اقدام اٹھایا۔ مینسر کے مطابق نیتن یاہو نے خود وزیرِاعظم البانیزے کے بارے میں "انتہائی دو ٹوک تبصرے” کیے، جس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کا مؤقف تھا کہ آسٹریلوی حکومت کے اقدامات یہودی مخالف حملوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔

اے بی سی نے مینسر کے ان بیانات کو ایک خبر میں شائع کیا جس کا عنوان تھا کہ”اسرائیلی حکومت کا دعویٰ: ایرانی سفارتکاروں کی ملک بدری میں ہمارا کردار ہے”۔

گزشتہ ہفتے نیتن یاہو نے البانیزے کو "کمزور سیاست دان” قرار دیتے ہوئے ان پر اسرائیل سے "دھوکہ دہی” اور آسٹریلیا کے یہودیوں کو "تنہا چھوڑنے” کا الزام لگایا تھا۔ یہ بیان البانیزے کے اس اعلان کے چند روز بعد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے آسٹریلوی الزامات کو "مکمل طور پر مسترد” کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دراصل آسٹریلیا کی جانب سے اسرائیل پر کی گئی "محدود تنقید” کا ازالہ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سفارتی سطح پر کسی بھی نامناسب اور بلاجواز اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

اسرائیل کے کینبرا میں سفارت خانے کی ترجمان ایلانہ لینک نے آسٹریلوی اخبارات کی سرخیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں "ایران نے ہم پر حملہ کیا” اور "ایران نے بونڈی ڈیلی کو نشانہ بنایا” جیسے جملے شامل تھے۔ انہوں نے لکھا کہ ہم نے خبردار کیا تھا کہ ایران اسرائیل یا یہودی عوام تک محدود نہیں رہے گا۔ مغرب اگلا ہدف ہے، اور آج آسٹریلیا اس حقیقت کو دیکھ رہا ہے۔

یہودی کونسل آف آسٹریلیا نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم ایرانی حکومت کے یہودی مخالف حملوں میں مبینہ ملوث ہونے کی خبر سے صدمے میں ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ بات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے کہ ان حملوں کو فلسطینی یکجہتی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم سیاستدانوں اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو یہودی کمیونٹی کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین