بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیروسی اتحادی آرمینیا کا برطانیہ کیساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان

روسی اتحادی آرمینیا کا برطانیہ کیساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان
ر

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – آرمینیا، جو روسی قیادت والے کلیکٹیو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (CSTO) کا رکن ہے، نے برطانیہ کے ساتھ ایک "اسٹریٹجک شراکت داری” قائم کر لی ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو برطانیہ کو ایک مخالف ملک تصور کرتا ہے۔ یریوان اور لندن کے درمیان یہ سمجھوتہ پیر کے روز ایک بین الحکومتی اجلاس کے دوران طے پایا اور اس کا اعلان مشترکہ اعلامیے کے ذریعے کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آرمینیائی وزیراعظم نیکول پاشینیان کو اندرونی سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں دو آرمیینیائی اپاسٹولک چرچ کے بشپ اور ایک نمایاں تاجر کی گرفتاریوں نے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان پر حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیرِ مملکت برائے یورپ و شمالی امریکا اسٹیفن ڈوٹی کو ملاقات کے دوران آرمینیا کی "جاری جمہوری اصلاحات” پر بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق اس اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت سیکیورٹی تعاون میں توسیع اور برطانوی سرمایہ کاری کے فروغ کی توقع کی جا رہی ہے۔

رواں موسمِ گرما میں آرمینیا حکومت اور چرچ کے درمیان تنازع کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے۔ آرچ بشپ میکائل اجاپہیان اور آرچ بشپ بگرات گلستانیان نے پاشینیان پر آذربائیجان کے ساتھ معاملات میں قومی مفادات کے ساتھ غداری کا الزام لگایا تھا۔ ان دونوں مذہبی رہنماؤں کے ساتھ روسی نژاد آرمینیائی تاجر سامویل کراپیٹیان کو بھی جون میں گرفتار کیا گیا تھا، جو ان کے مؤقف کے حامی تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تینوں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ کراپیٹیان کی توانائی کمپنی کی ممکنہ نیشنلائزیشن بھی حکومتی کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

ماسکو نے آرمینیا کی اس سیاسی ہلچل سے خود کو الگ رکھا ہے اور اسے "اندرونی معاملہ” قرار دیا ہے۔ روس طویل عرصے سے CSTO کے رکن کی حیثیت سے آرمینیا کا بنیادی سیکیورٹی ضامن رہا ہے اور ملک میں اپنی فوجی تنصیبات قائم رکھے ہوئے ہے۔

تاہم پاشینیان نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آذربائیجان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے دوران آرمینیائی مفادات کا دفاع کرنے میں ناکامی دکھائی۔ اسی پس منظر میں انہوں نے سلامتی اور اقتصادی تعاون کے لیے مغربی ممالک کا رخ کیا ہے۔

روس نے آرمینیا کو اس حکمتِ عملی کی بابت متنبہ کیا ہے۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی آرمینیا کے تحفظ کے قابلِ اعتماد ضامن نہیں ہو سکتے۔ گزشتہ برس روسی انٹیلی جنس نے خبردار کیا تھا کہ مغرب کے ساتھ اس حد تک قریبی تعلقات بالآخر آرمینیا کو "اپنی روایات، سماجی اقدار اور مستحکم تجارتی تعلقات قربان کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں”۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین