بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ فنڈ کیلیے بوسنیا کے یہودی نسخے کی آمدنی پر تنازع

غزہ فنڈ کیلیے بوسنیا کے یہودی نسخے کی آمدنی پر تنازع
غ

سرائیوو (مشرق نامہ) – بوسنیا کے قومی میوزیم نے قیمتی یہودی نسخے سراے وو ہگادا کی نمائش سے حاصل ہونے والی آمدنی غزہ کے متاثرین کو دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

میوزیم کا کہنا ہے کہ اس نسخے کو دیکھنے کے لیے بیچی جانے والی ٹکٹوں کی رقم فلسطینی عوام کی مدد کے لیے عطیہ کی جائے گی، جو "ریاستِ اسرائیل کے ہاتھوں منظم، سوچے سمجھے اور سفاکانہ دہشت گردی کا شکار ہیں”۔

یہ فیصلہ اس ماہ کے اوائل میں عالمی یہودی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنا، جنہوں نے اسے "یہود دشمنی” قرار دیا۔ تاہم، میوزیم کے ڈائریکٹر مرساد سیجاریچ نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دنیا بھر سے متعدد یہودی افراد کی جانب سے حمایت کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کیا ہم نے ایک فریق کا انتخاب کیا؟ جی ہاں، ہم نے ایک فریق کا انتخاب کیا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ "یہودی عوام کے خلاف نہیں بلکہ غزہ میں جاری مظالم کے خلاف ایک موقف” ہے۔

سیجاریچ نے مزید کہا کہ غیر جانبداری کا دعویٰ دراصل ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ میرے خیال میں یہ خالص برائی ہے، اور اس کی مخالفت ضروری ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین