صنعا (مشرق نامہ) – یمن کی وزارتِ دفاع نے اتوار کو بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے صہیونی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے پسپا کر دیے اور حملہ آور طیاروں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
فوجی ذرائع کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے الستین اسٹریٹ پر یمن آئل کمپنی کے اسٹیشن اور دارالحکومت کے جنوب میں واقع مرکزی حزیض پاور اسٹیشن پر متعدد حملے کیے، جن کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
صبا نیوز ایجنسی کے سربراہ نصر الدین عامر نے بتایا کہ یمن نے مقامی سطح پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام استعمال کرتے ہوئے "متعدد جنگی اسکواڈرنز” کو روکا۔ ان کے مطابق یہ حملے یمن کی فوجی کارروائیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکے۔ انہوں نے شہری ایندھن کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کو اسرائیلی "بربریت اور کمزوری” کی علامت قرار دیا۔
انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرحہ نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائیاں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل کی وسیع جارحیت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن کی میزائل اور ڈرون کارروائیاں غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر جاری رہیں گی جب تک جنگ اور محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔
اسرائیلی میڈیا، بشمول چینل 12، نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے یمن کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن کے مبینہ اہداف میں ایک پاور اسٹیشن، صدارتی تنصیبات اور میزائل اڈے شامل تھے۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ یمن نے اسرائیل کے اندر "فرسودگی کی جنگ” مسلط کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
صنعا پر یہ تازہ فضائی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایک دن قبل اسرائیلی میڈیا نے یمن کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق یمن نے پہلی مرتبہ ایک کثیر وار ہیڈ بیلسٹک میزائل استعمال کیا، جو اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کے لیے نیا چیلنج بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 2023 کے اواخر سے یمن نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کر رکھی ہے، جس میں بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیل سے منسلک جہاز رانی پر بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ علاقوں کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ تازہ کشیدگی، جس میں ہائپرسانک اور مبینہ کثیر وار ہیڈ میزائل بھی شامل ہیں، نے اسرائیلی سلامتی کے ڈھانچے پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور یمن پر جوابی حملوں کو جنم دیا ہے۔

