بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر 50٪ ٹیرف عائد کردیا

امریکا نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر 50٪ ٹیرف عائد کردیا
ا

واشنگٹن/ نئی دہلی (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی رعایتی تیل کی خریداری پر نئی دہلی کو سزا دینے کے اعلان پر عمل کرتے ہوئے بھارت سے درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر ٹیرف دگنا کر دیا ہے۔ بدھ کے روز نافذ ہونے والے ان سخت تجارتی اقدامات کے تحت بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے، جس سے بھارت کی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔

امریکی فیصلے سے بھارت کی سب سے بڑی برآمدی منڈی کو براہِ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ صرف 2024 میں بھارت نے امریکا کو 87 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی مصنوعات برآمد کی تھیں۔ بھارتی حکومت نے ان ٹیرف کو "غیر منصفانہ، بلا جواز اور غیر معقول” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے تقریباً 48 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہوں گی۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ نئی ڈیوٹیاں امریکا کو برآمدات کو تجارتی طور پر غیر مستحکم کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع ختم ہونے اور معیشت کی رفتار سست ہونے کا اندیشہ ہے۔

امریکا نے اس ماہ کے آغاز میں ہی بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جو ٹرمپ انتظامیہ کے ان اضافی تجارتی اقدامات کا حصہ تھا جو اس نے اتحادیوں اور حریف ممالک دونوں کے خلاف اٹھائے ہیں۔ تاہم روسی تیل کی خریداری پر نئی دہلی کو نشانہ بنانے کے لیے اب یہ ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ میں ماسکو کی مالی مدد کر رہی ہیں۔

گزشتہ سال بھارت کی تیل کی مجموعی درآمدات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ روس سے آیا تھا، جس پر واشنگٹن پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ ٹرمپ کے تجارتی مشیر پیٹر نیوارو نے حالیہ بیان میں کہا کہ بھارت بظاہر یوکرین میں خونریزی میں اپنے کردار کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔

بھارتی برآمدی شعبے پر کاری ضرب

معاشی ماہرین کے مطابق امریکی ٹیرف میں اضافے سے سب سے زیادہ اثر اُن شعبوں پر پڑے گا جو محنت کش طبقے پر انحصار کرتے ہیں۔ ایلارا سیکیورٹیز کی نائب صدر گارما کپور نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ٹیکسٹائل، ملبوسات، جواہرات، سمندری مصنوعات، بعض آٹو ایکسپورٹس اور چمڑے کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔ یہ تمام شعبے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر مبنی ہیں، اس لیے روزگار پر اس کے نتائج خاصے سنگین ہوں گے۔

نئی دہلی کے تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے بانی اور سابق بھارتی تجارتی عہدیدار اجے سریواستو نے خبردار کیا ہے کہ یہ نیا ٹیرف بھارتی برآمدات کو امریکی مارکیٹ سے مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اسٹریٹجک دھچکا بھارت کی امریکی منڈی میں دیرینہ موجودگی کو مٹا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں برآمدات پر انحصار کرنے والے مراکز میں بے روزگاری بڑھے گی اور صنعتی سپلائی چین میں بھارت کا کردار کمزور ہو جائے گا۔

محدود استثنیٰ اور امریکی دباؤ

فی الحال امریکا نے دوا سازی اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت چند کلیدی شعبوں کو اضافی ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا ہے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ان شعبوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جو آئندہ مزید ڈیوٹیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

امریکی انتظامیہ بھارت کے زرعی اور ڈیری سیکٹرز تک زیادہ رسائی چاہتی ہے، لیکن نئی دہلی اس دباؤ کو مسترد کر رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات سب سے مقدم ہیں۔ میری حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ وہ متاثر نہ ہوں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین