تل ابیب (مشرق نامہ) — اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ یمنی افواج کی جانب سے گزشتہ مارچ سے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں پر داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی تعداد ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، غزہ میں مارچ کے وسط میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 71 بیلسٹک میزائل اور 23 ڈرونز یمن سے چھوڑے گئے جو اسرائیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندرونی حصوں میں جا لگے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی اور غیر حتمی ہیں، اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یمنی مسلح افواج نومبر 2023 سے بحیرہ احمر میں اور اسرائیلی اہداف کے خلاف مسلسل فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ یمنی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیں اور اسرائیلی محاصرے کے خاتمے تک جاری رہیں گے۔ اس پالیسی نے یمن کو براہِ راست اسرائیل اور اس کے اتحادیوں، بالخصوص امریکہ، کے ساتھ تصادم میں لا کھڑا کیا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کے حملوں میں 62,744 فلسطینی شہید اور 158,259 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

