تحریر: کِٹ کلارنبرگ
کِٹ کلارنبرگ یہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح مغرب نے ہیلسنکی معاہدے کے بعد ’انسانی حقوق‘ کو ہتھیار بنا کر ایک عظیم اور بلند مقصد کو حکومتیں گرانے، پابندیاں لگانے اور سامراجی جنگوں کے جواز کے لیے استعمال کیا۔
یکم اگست کو ہیلسنکی معاہدے پر دستخط کے پچاس برس مکمل ہوئے۔ اس موقع کی سنہری سالگرہ مرکزی دھارے کے میڈیا میں زیادہ توجہ یا پذیرائی حاصل نہ کرسکی۔ لیکن یہ تاریخ غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے تباہ کن نتائج آج بھی پورے یورپ اور اس سے آگے تک گونج رہے ہیں۔ یہ معاہدہ نہ صرف سوویت یونین، وارسا معاہدہ اور یوگوسلاویہ کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوا بلکہ اس نے ایک ایسی دنیا تخلیق کی جس میں ’انسانی حقوق‘، بالخصوص مغرب کے وضع کردہ اور اس کے ذریعے نافذ کردہ تصور، سامراجی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگے۔
ہیلسنکی معاہدے کا مقصد امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے عمل (ڈیٹینٹ) کو مضبوط بنانا تھا۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق، سوویت یونین کے وسطی اور مشرقی یورپ پر سیاسی اثر و رسوخ کو تسلیم کرنے کے بدلے میں ماسکو اور اس کے اتحادیوں نے انسانی حقوق کی ایسی تعریف مان لی جو صرف سیاسی آزادیوں تک محدود تھی، مثلاً اجتماع، اظہار، معلومات تک رسائی اور نقل و حرکت کی آزادی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرقی بلاک کے شہریوں کو حاصل بنیادی معاشی و سماجی حقوق — جیسے مفت تعلیم، روزگار کی ضمانت، رہائش اور دیگر سہولیات — اس تعریف میں بالکل شامل نہیں کیے گئے۔
اس معاہدے کے ایک اور پہلو کے تحت مغرب نے کئی تنظیمیں قائم کیں جو مشرقی بلاک میں انسانی حقوق کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ذمہ دار بنیں، جن میں ’ہیلسنکی واچ‘ شامل تھی جو بعد میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ بنی۔ یہ تنظیمیں وقتاً فوقتاً مشرقی بلاک کا دورہ کرتیں، وہاں کے مخالف حکومت گروہوں کے ساتھ قریبی روابط قائم کرتیں اور ان کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سوویت یونین یا وارسا معاہدے کے ممالک کے نمائندوں کو کبھی یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ امریکہ یا اس کے اتحادی ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانچ پڑتال کرسکیں۔
قانونی ماہر سیموئیل موئن کے مطابق، ہیلسنکی معاہدے نے بنیادی حقوق کے بیانیے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں معاشی اور سماجی حقوق تقریباً پسِ پشت ڈال دیے گئے، اور ’انسانی حقوق‘ کا تصور ریاستوں کو شرمندہ کرنے اور نشانہ بنانے کے ہتھیار میں بدل گیا۔
مغرب نے اسی نئے تصور کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں حکومتوں کے خلاف پابندیوں، عدم استحکام پیدا کرنے، بغاوتوں کی حمایت اور براہِ راست فوجی مداخلت کا جواز پیدا کیا۔ اس عمل میں بظاہر غیرجانبدار تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔
ہیلسنکی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی مشرقی بلاک میں متعدد تنظیمیں ابھریں جن کا مقصد حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینا تھا۔ ان رپورٹس کو اکثر خفیہ طور پر بیرونی سفارتخانوں اور مغربی تنظیموں تک پہنچایا جاتا، جو انہیں عالمی سطح پر نشر کرتیں۔
امریکی قانون ساز ڈانٹے فاسیل کا دعویٰ تھا کہ سوویت یونین کے ’نڈر شہریوں‘ کے مطالبات نے واشنگٹن کو مجبور کیا کہ وہ جواب دے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مشرقی بلاک میں مداخلت کا منصوبہ پہلے ہی سے معاہدے کا حصہ تھا۔
جون 1975 میں، جب امریکی صدر جیرالڈ فورڈ معاہدے پر دستخط کرنے ہی والے تھے، جلاوطن سوویت مخالف مصنف الیگزینڈر سولزینیٹسین نے واشنگٹن میں امریکی سیاستدانوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہیں سی آئی اے سے منسلک تنظیم AFL-CIO کے سربراہ جارج مینی نے مدعو کیا تھا۔ سولزینیٹسین نے اپنے خطاب میں مغرب سے کھلے عام مداخلت کی اپیل کی کہ ہمارے پاس کوئی ٹینک نہیں، کوئی ہتھیار نہیں، کوئی تنظیم نہیں… آپ ہی ہمارے اتحادی ہیں۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مداخلت کریں۔ ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آئیں اور مداخلت کریں۔
’سیاسی انحراف‘
1980 میں پولینڈ کے شہر گڈانسک سے شروع ہونے والی مزدور ہڑتالوں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور نتیجتاً ’سولڈیریٹی‘ نامی آزاد تجارتی یونین اور سماجی تحریک کی بنیاد پڑی۔ اس تحریک کا ایک بڑا مطالبہ یہ تھا کہ سوویت حمایت یافتہ حکومت ہیلسنکی معاہدے کے انسانی حقوق کے پروٹوکولز کی 50 ہزار کاپیاں عوام میں تقسیم کرے۔
سولڈیریٹی کے بانی لیخ ویلنسا نے بعد میں معاہدے کو ’سنگِ میل‘ قرار دیا، جس نے تحریک کو ملک گیر طاقت میں تبدیل کر دیا۔ صرف ایک سال میں سولڈیریٹی کی رکنیت ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
سولڈیریٹی اور مشرقی بلاک کی دیگر مخالف حکومت تنظیموں جیسے چیکوسلوواکیہ کی ’چارٹر 77‘ کو خفیہ طور پر امریکی حکومت کی جانب سے لاکھوں ڈالر فراہم کیے گئے۔ ستمبر 1982 کے ایک خفیہ امریکی قومی سلامتی کے حکم نامے میں واضح کیا گیا تھا کہ امریکہ کا طویل مدتی مقصد مشرقی یورپ پر سوویت اثر کو کمزور کرنا اور خطے کو یورپی برادری میں دوبارہ ضم کرنا ہے۔
یہ مقصد لبرل رجحانات کو فروغ دینے، عوام کو مغرب کی طرف مائل کرنے، سوویت یونین پر انحصار کم کرنے اور مغربی یورپ کے آزاد ممالک سے روابط بڑھانے کے ذریعے حاصل کیا جانا تھا۔
اگست 1989 میں، جب پولینڈ میں سولڈیریٹی اقتدار میں آئی اور مشرقی بلاک میں پہلی غیرکمیونسٹ حکومت قائم ہوئی، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک غیرمعمولی مضمون شائع ہوا۔ AFL-CIO کے سینیئر رہنما ایڈریان کاراتنیکی نے اعتراف کیا کہ پولینڈ میں کامیابی امریکی خفیہ منصوبے کا ’مرکزی نقطہ‘ تھی، جس کے تحت تحریک کو وسیع پیمانے پر مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی گئی۔
امریکی امداد کے تحت سینکڑوں پرنٹنگ پریس، کمپیوٹرز، مائمگراف مشینیں، ہزاروں گیلن سیاہی، اسٹینسلز، ویڈیو کیمرے اور ریڈیو آلات پولینڈ بھیجے گئے۔ پولینڈ میں 400 خفیہ جریدے شائع ہوتے تھے جن میں کارٹونز کے ذریعے کمیونزم کو ’سرخ اژدھا‘ اور لیخ ویلنسا کو ’ہیروک نائٹ‘ کے طور پر پیش کیا جاتا۔
کاراتنیکی نے اس کامیابی کو ’جمہوریت کی تعمیر کی کامیاب لیبارٹری‘ قرار دیا اور اشارہ دیا کہ یہ محض آغاز ہے۔ اسی دوران پورے وارسا معاہدے کے ممالک میں حکومتیں ایک ایک کرکے گرنے لگیں۔
’شاک تھراپی‘ کا صدمہ
1989 کی ان ’انقلابی‘ تحریکوں کو آج بھی مغربی میڈیا میں آمریت سے جمہوریت میں ’پرامن منتقلی‘ کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر ان تحریکوں کے کئی رہنماؤں کے لیے یہ تبدیلی کسی بڑے دھوکے سے کم نہ تھی۔
چیکوسلوواکیہ کی ’چارٹر 77‘ کی ترجمان زڈینا ٹومینووا نے 1981 میں ڈبلن میں ایک خطاب کے دوران کہا کہ کمیونسٹ نظام کے تحت عوام کو حاصل معاشی و سماجی فوائد بے حد اہم تھے، اور ان کے خیال میں ضروری تھا کہ ان سہولیات کو برقرار رکھتے ہوئے صرف سیاسی آزادیوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر دنیا کا کوئی مستقبل ہے تو وہ ایک سوشلسٹ معاشرے کی صورت میں ہے… ایک ایسا معاشرہ جہاں کسی کو محض امیر خاندان سے تعلق کی وجہ سے فوقیت حاصل نہ ہو۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ کمیونسٹ حکومتوں کے خاتمے کے بعد مشرقی یورپ کے ممالک کو ’شاک تھراپی‘ کے تحت تیزی سے سرمایہ دارانہ نظام میں دھکیلا گیا۔ اس کے نتیجے میں بے گھر ہونا، بھوک، بے روزگاری، عدم مساوات اور دیگر سماجی مسائل عام ہوگئے، جو اس سے پہلے کمیونسٹ نظام میں نہ ہونے کے برابر تھے۔
ہیلسنکی معاہدے کی رو سے یہ مسائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھے گئے، بلکہ انہیں اسی سیاسی ’آزادی‘ کا لازمی نتیجہ قرار دیا گیا جس کے لیے عوام کو لڑنے پر اکسایا گیا تھا۔

