تحریر: حمیرا احد
دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے اور اپنی تخلیقات کو 20 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کروانے سے پہلے، محمود درویش ایک ایسے فلسطینی گاؤں کے لڑکے تھے جو مٹایا جا چکا تھا۔ وہ اپنی جیب میں اپنے وطن کی مٹی اور ملبے کے ذرے لیے پھرتے تھے، جبکہ دل میں دانش و بصیرت سے بھری ایک آواز سنبھالے رکھتے تھے۔
درویش کے الفاظ صرف فلسطین کی عکاسی نہیں کرتے تھے؛ وہ خود فلسطین بن گئے تھے٬ اس کے زیتون کے درخت، پتھریلی دیواریں، اس کا غم اور مزاحمت، اس کی یادیں اور واپسی کے خواب۔ ان کے اشعار قید خانوں میں بھی سرگوشی کرتے تھے، ایک ایسی زبان تخلیق کرتے ہوئے جو سرحدوں کو عبور کر سکتی تھی اور جلاوطنی پر غالب آ سکتی تھی۔
آج محمود درویش جدید عرب دنیا کے سب سے بااثر شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں، جن کی تخلیقات فلسطینی شناخت اور انصاف کی جدوجہد کے ساتھ گہری جڑیں رکھتی ہیں۔
اسکولوں میں بڑے پیمانے پر پڑھائے جانے والے اور موسیقی میں ڈھلنے والے درویش کے دل گداز اشعار اجتماعی دکھ، امید اور مزاحمت کے گیت بن گئے ہیں جو نسلوں اور سرحدوں سے ماورا گونجتے ہیں۔
بچپن: جلاوطنی اور محرومی کے سائے میں
محمود درویش 1941 میں فلسطینی گاؤں البروہ میں پیدا ہوئے، ایک ایسی سرزمین پر جہاں لوگ تباہ کن تبدیلی کے دہانے پر کھڑے تھے۔
ان کے والدین زمینوں کے مالک تھے اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے، مگر 1948 میں صہیونی ملیشیاؤں نے ان کے گاؤں پر حملہ کر کے انہیں لبنان کی طرف جلاوطن ہونے پر مجبور کر دیا۔
اگلے سال جب درویش کا خاندان اپنی سرزمین پر واپس آیا، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا گاؤں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔
اپنی آبائی زمینوں کے بجائے، انہیں دیئر الاسد میں آباد ہونا پڑا، جو ان کے سابقہ زرعی علاقوں سے 15 کلومیٹر سے بھی زیادہ دور تھا۔
اسرائیلی نسل پرست نظام کے تحت سرکاری مردم شماری سے باہر رہ جانے کے باعث وہ "اندرونی پناہ گزین” قرار پائے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں کم سے کم وہ قانونی شناخت بھی نہیں دی گئی جو قابض آبادکاروں کو حاصل تھی، اور یوں ان پر جبر و محرومی کی ایک مسلط شدہ حالت ٹھونس دی گئی۔
یہ جلاوطنی، محرومی اور بے دخلی کا تجربہ بعد میں محمود درویش کی شاعری کی بنیاد بنا، جس نے سرحدوں کے پار دلوں کو چھوا۔
فلسطین کی ادبی آواز
قبضے کے سائے میں پروان چڑھتے ہوئے، درویش نے کم عمری میں ہی یہ شدت سے محسوس کیا کہ وہ، ان کا خاندان اور تمام فلسطینی منظم طور پر حاشیے پر ڈالے جا رہے ہیں اور ان کی انسانیت مسخ کی جا رہی ہے۔
اسکول کے زمانے ہی میں ان کا تخلیقی شعور اس حقیقت کی عکاسی کرنے لگا۔ اسرائیلی قبضے کی سالگرہ کے موقع پر لکھی گئی ان کی ابتدائی نظموں میں سے ایک ایک عرب لڑکے کی طرف سے ایک یہودی لڑکے کو پکار تھی، جو بچپن کی معصوم خوشیوں سے محروم تھا:
تم جتنا چاہو سورج میں کھیل سکتے ہو،
تمہارے پاس کھلونے ہیں، میرے پاس نہیں۔
تمہارا گھر ہے، میرا نہیں۔
تمہارے پاس جشن ہیں، میرے پاس نہیں۔
کیوں ہم ساتھ کھیل نہیں سکتے؟
ان کی شاعری نے جلد ہی قابض صہیونی حکام کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ ایک اسرائیلی فوجی گورنر نے انہیں طلب کر کے دھمکی دی کہ اگر وہ ایسی نظمیں لکھنا جاری رکھتے ہیں تو ان کے والد کا روزگار چھین لیا جائے گا۔
محمود درویش کو اپنی زندگی میں بارہا گرفتار کیا گیا اور نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ محض 16 برس کی عمر سے وہ بار بار جیل گئے، کبھی اپنی شاعری کی وجہ سے اور کبھی فلسطینی دیہاتوں کے درمیان بغیر اجازت نقل و حرکت پر۔
مزاحمت کی شاعری: شناختی کارڈ اور اس سے آگے
درویش کی ابتدائی شاعری کلاسیکی عربی اسلوب میں تھی، مگر 1960 کی دہائی کے وسط تک ان کا طرز زیادہ براہِ راست، عوامی اور مزاحمتی ہوگیا۔
ان کے سب سے مشہور کاموں میں سے ایک نظم "شناختی کارڈ” (Bitaqat Huwiyya) ہے، جو 1964 میں ان کے پہلے مجموعے "زیتون کے پتے” (Awraq al-Zaytun) میں شائع ہوئی۔
یہ نظم فلسطینیوں کے لیے ایک احتجاجی ترانہ بن گئی، ایک ایسی صدا جو قبضے کے سائے میں جینے والوں کے دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے، اور جو انسانی وقار کے استحکام کا اعلان ہے:
لکھ لو
میں ایک عرب ہوں۔
میرا شناختی کارڈ نمبر ٥٠٫٠٠٠ ہے۔
میرے آٹھ بچے ہیں،
نواں اگلی گرمیوں میں آنے والا ہے۔
کیا یہ تمہیں پریشان کرتا ہے؟
ایک اور مقام پر درویش لکھتے ہیں:
گلیاں ہمیں گھیر لیتی ہیں،
ہم بموں کے بیچ چلتے ہیں۔
تم موت کے عادی ہو؟
میں زندگی اور لاانتہا آرزو کا عادی ہوں۔
شاعر دربدر: جلاوطنی میں قوم کی آواز
1970 میں ماسکو میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران درویش کو قابض فلسطینی علاقوں میں واپس آنے سے روک دیا گیا، جس نے ان کی طویل جلاوطنی کا آغاز کر دیا۔
اگلے دو دہائیوں تک وہ زیادہ تر بیروت اور پیرس میں مقیم رہے۔ یہی شہر ان کی ادبی تخلیق اور سیاسی فکر کے ارتقاء کے سنگِ میل ثابت ہوئے۔
جلاوطنی کے زمانے میں ان کی شاعری مزید علامتی اور استعاراتی ہوتی گئی، جہاں ذاتی محرومی اور فلسطینی اجتماعی صدمے ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے۔ انہوں نے فلسطین کو کبھی ماں، کبھی ظالم محبوبہ، اور کبھی زمین اور لوگوں کے ساتھ ابدی وحدت کے استعارے کے طور پر برتا۔
درویش کے کلام میں جلاوطنی کا مرکزی موضوع بے دخلی کے نفسیاتی اور جذباتی زخموں کی شدت بیان کرتا ہے، اور شناخت و تعلق کے اس پیچیدہ رشتے کو کھولتا ہے جو جغرافیائی بکھراؤ میں پیدا ہوتا ہے۔
درویش کی شاعری صرف فلسطینی حلقوں میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں گونجی۔ انہیں کئی بین الاقوامی اعزازات ملے، جن میں لینن امن انعام، لانن کلچرل فریڈم پرائز اور فرانس کا بیلز لیتر میڈل شامل ہیں۔
شاعری: زخم، مزاحمت اور یادداشت
ادبی نقادوں کے مطابق، درویش کی شاعری محض دکھ کا اظہار نہیں بلکہ زخم کو مزاحمت میں ڈھالنے کا عمل ہے۔
جلاوطنی، محرومی اور قبضے کے روزمرہ صدموں کو آواز دے کر وہ فلسطینی اجتماعی حافظے کو زندہ رکھتے ہیں اور ان بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں جو قابض قوتیں مسلط کرنا چاہتی ہیں۔
ان کی شاعری فلسطینی ثقافت، وراثت اور لوک داستانوں کا ذخیرہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مزاحمت صرف عسکری نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے۔
زیتون کے درخت، پتھر، تھائم اور خوشبودار جڑی بوٹیاں ان کے ہاں محض مناظرِ فطرت نہیں بلکہ اس گہری جڑت کی علامت ہیں جو فلسطینی عوام کو اپنی زمین سے باندھتی ہے۔
شناختی کارڈ کا بار بار آنا اس مسلط شناختی کٹاؤ کی یاد دہانی ہے جو انسان کو ایک محض عدد میں بدل دینے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ تجربہ دنیا بھر کے مظلوم گروہوں کے لیے ایک عالمگیر استعارہ بن جاتا ہے۔
زمین اور لوگ: ماحولیاتی مزاحمت اور شناخت
نقادوں کے نزدیک محمود درویش کی شاعری "ماحولیاتی مزاحمت” کی زندہ تصویر ہے، جو فلسطینی عوام اور ان کی زمین کی جدوجہد کو ایک دوسرے سے ناقابلِ علیحدگی میں پیش کرتی ہے۔
زمین کے کھو جانے کا المیہ، شاعری کے دھارے بن کر مزاحمت کی راہوں کو جِلا دیتا ہے۔ فطرت کے عناصر—زیتون کے باغات، سبزہ زار، جڑی بوٹیاں، پتھر—سب ایک زندہ شاہد بن جاتے ہیں جنہیں مٹایا نہیں جا سکتا۔
درویش کے الفاظ جیسے دستی بم بن جاتے ہیں، جو غصے، دکھ، مزاحمت اور زمین سے اٹوٹ وابستگی کا اظہار ہیں:
اگر ایک دن میں واپس آؤں،
مجھے اپنی پلکوں کا پردہ بنا لینا،
میری ہڈیوں کو گھاس سے ڈھانپ دینا۔
یہ مصرعے نہ صرف واپسی کی تڑپ کا اظہار ہیں بلکہ زمین کے ساتھ ایک روحانی اتحاد کا اعلان بھی ہیں جسے کوئی قبضہ مٹا نہیں سکتا۔
اسرائیلی قبضے کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر درویش نے فلسطینیوں کے اپنی زمین کے ساتھ ناقابلِ ٹوٹ رشتے کو یوں بیان کیا تھا:
ہم، اس مقدس سرزمین کے فرزند، زمان و مکان میں اپنی گونجتی ہوئی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی تاریخ کا مسلط بیانیہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، اور ہم اب بھی فلسطینی عزم اور زندگی کے اصل بیانیے کے وکیل اور گواہ ہیں۔
یہ اعلان درویش کے شعری مشن کا نچوڑ ہے: بے زبانوں کو زبان دینا، مایوسی میں زندگی کا دم بھرنا، اور مزاحمت کی آگ کو جلائے رکھنا۔
محمود درویش اگست 2008 میں دل کی سرجری کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث 67 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
ان کی زندگی اور تخلیقات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ شاعری محض ایک فن نہیں بلکہ سیاسی اور ثقافتی مزاحمت کا ایک عمل بھی ہے۔
ان کے پائیدار اشعار کے ذریعے فلسطینی جدوجہد زندہ ہے، دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ انصاف، وقار اور آزادی کی طلب کبھی مٹائی نہیں جا سکتی۔

