امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کے مطابق، پینٹاگون نے یوکرین کو امریکی ساختہ میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین کے اندر گہرائی تک حملے کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے رواں سال کے اوائلِ بہار سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے اے ٹی اے سی ایم ایس (ATACMS) میزائل روسی حدود میں داغنے سے منع کر رکھا ہے۔ ایک موقع پر، واشنگٹن نے مبینہ طور پر کیف کی جانب سے روس کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقے پر حملے کی درخواست کو بھی مسترد کر دیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے اس پالیسی تبدیلی کو صدر ٹرمپ کی اس حکمتِ عملی سے جوڑا ہے جس کے تحت وہ ماسکو کو امن مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے 2019 کے بعد پہلی ملاقات ہوئی تھی، جس کے چند روز بعد انہوں نے واشنگٹن میں یوکرین، نیٹو، یورپی یونین اور کئی یورپی ممالک کے رہنماؤں سے بھی مذاکرات کیے۔
اگرچہ ٹرمپ نے ماسکو اور کیف دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد امن معاہدے پر پہنچیں، تاہم انہوں نے جمعرات کو کہا کہ روس پر حملے کیے بغیر یوکرین کے پاس "جیتنے کا کوئی موقع نہیں”۔
ٹرمپ نے سابقہ امریکی انتظامیہ کو بھی یوکرین کو غیر مشروط فوجی امداد دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور رواں سال فروری میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ "تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں”۔
دوسری جانب روس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والے مغربی ممالک دراصل اس تنازع میں براہِ راست فریق بن رہے ہیں۔ ماسکو نے ایک دیرپا جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط میں غیر ملکی فوجی امداد کے خاتمے کو شامل کر رکھا ہے۔

