مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذہانوم گیبرییسس نے کہا ہے کہ غزہ میں ۱۵,۶۰۰ سے زائد افراد، جن میں ۳,۸۰۰ بچے بھی شامل ہیں، فوری طبی انخلا کے منتظر ہیں تاکہ انہیں خصوصی علاج فراہم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ اسرائیلی جارحیت کے باعث قحط، بھوک اور قتلِ عام کے بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہزاروں مریض فوری طبی سہولیات سے محروم ہیں اور عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ محصور علاقے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔
انہوں نے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری فائر بندی ہی غزہ کے شہریوں تک امداد کی فراہمی اور مزید ہلاکتوں سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔
دوسری جانب طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ایک اعلیٰ عہدیدار محمد ابو مغیصیب نے کہا کہ غزہ میں صورتِ حال "تباہی” کے لفظ سے بھی بدتر ہو چکی ہے کیونکہ علاقے میں کوئی فعال صحت کا نظام باقی نہیں رہا اور قحط وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب صحت کے نظام کے تباہ ہونے کی بات نہیں رہی، حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں اب کوئی صحت کا نظام ہے ہی نہیں۔
ابو مغیصیب کے مطابق اسرائیلی بمباری کے ۲۲ ماہ کے دوران بیشتر اسپتال تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں، اور جو چند فیلڈ کلینکس اور عارضی وارڈز باقی ہیں وہ زخمی اور شدید بیمار مریضوں سے لبریز ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ ۳۰۰ فیصد تک پہنچ چکا ہے، مریض فرش پر لیٹنے پر مجبور ہیں، اور ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث درجنوں سرجریز ملتوی کر دی گئی ہیں۔ فی الحال صرف ۳۸ میں سے ۱۵ اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں، وہ بھی شدید نقصان کے باوجود۔
ابو مغیصیب کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں پہنچنے والے چند امدادی ٹرک زمینی حقائق کو بدلنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ خوراک ہے، نہ دوا، نہ حقیقی انسانی ہمدردی کی امداد۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھوک سے مرنے والے بیشتر بچوں کو پہلے سے بیماری لاحق ہے، جنہیں اگر مناسب غذا اور پروٹین سپلیمنٹس میسر آ جائیں تو وہ بچ سکتے ہیں۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی ادارہ برائے قحط مانیٹرنگ (IPC) نے غزہ میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ ادارے کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً ۵۱۴,۰۰۰ افراد، یعنی کل آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ، قحط کا شکار ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۶۲,۶۲۲ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ ۱,۵۷,۶۷۳ افراد زخمی ہیں۔

