بلومفونٹین (مشرق نامہ) – جنوبی افریقہ میں مظاہرین نے اسرائیل کو کوئلے کی برآمدات پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ترسیلات غزہ میں جاری نسل کشی میں شریک ہونے کے مترادف ہیں، جبکہ اسرائیلی جارحیت اور عالمی عدالت انصاف (ICJ) کی کارروائیوں کے پس منظر میں حکومت پر فوری اقدام کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس ہفتے جنوبی افریقہ کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے، جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو تمام کوئلے کی برآمدات فی الفور روک دے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے : “گلینکور نسل کشی کا ایندھن فراہم کر رہا ہے” اور “جنوبی افریقہ سے اسرائیل کو کوئی کوئلہ نہیں — نسل کشی پر برآمدات پر پابندی لگاؤ”۔
یہ احتجاجی مظاہرے پریٹوریا، ڈربن اور کیپ ٹاؤن سمیت بڑے شہروں میں منعقد ہوئے، جہاں شرکاء نے وزارتِ تجارت، صنعت اور مسابقت کے دفاتر کے باہر جمع ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئلہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اسرائیل کو سامان بھیجنے سے روکے۔
یوهانسبرگ میں قائم ریسرچ گروپ "میڈیا ریویو نیٹ ورک” کے سینئر عہدیدار اقبال جاسٹ نے اناطولیہ ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ جنوبی افریقہ سے اسرائیل بھیجے جانے والے کوئلے کے ٹنوں کے ٹن فلسطینیوں کے قتلِ عام کو توانائی فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسے فیصلہ کن اور اصولی اقدام اٹھانا چاہیے۔
ادھر "جنرل انڈسٹریز ورکرز یونین آف ساؤتھ افریقہ” کے صدر مامیٹلوے سبی نے پالیسی میں تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک کے طور پر جس نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں دائر کیا ہے، ہم اسرائیل کو کوئلہ فراہم کرتے ہوئے اس کے توانائی کے گرڈ اور فوجی صنعتی نظام کو تقویت نہیں دے سکتے جو نسل کشی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے دسمبر 2023 میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ پر جنگ کے دوران 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ مقدمہ ایک بڑی قانونی پیش رفت ثابت ہوا اور اس نے ملک بھر میں عوامی جذبات کو مزید ابھار دیا ہے۔

