بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیپیوٹن کا روس کی فوجی برتری کا دعویٰ

پیوٹن کا روس کی فوجی برتری کا دعویٰ
پ

ماسکو (مشرق نامہ) – روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کے جوہری آبدوزیں غیر ملکی ریڈار سسٹمز سے پوشیدہ رہتے ہوئے برفانی آرکٹک خطے کے نیچے خاموشی سے حرکت کر سکتی ہیں، جسے ماسکو کی اہم فوجی برتری قرار دیا جا رہا ہے۔

جمعہ کے روز ماسکو کے مشرقی شہر سروف میں جوہری شعبے کے کارکنان سے ملاقات کے دوران پوتن نے آرکٹک خطے کی روسی دفاع کے لیے اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ روس کی اسٹریٹجک جوہری آبدوزیں آرکٹک کی برف کے نیچے غوطہ لگا کر ریڈار سے غائب ہو جاتی ہیں، اور یہی ماسکو کی فوجی برتری ہے۔

پیوٹن نے مزید کہا کہ آرکٹک پر تحقیق بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ برف پگھلنے سے تجارتی بحری راستے مزید قابلِ رسائی ہو رہے ہیں، جس سے روس کو مسابقتی برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ان راستوں کے استعمال میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور یہی روس کے لیے ایک مضبوط جغرافیائی و اقتصادی موقع ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں روس اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے آرکٹک کی اسٹریٹجک اہمیت کو سکیورٹی اور عالمی تجارت کے لیے اجاگر کیا ہے۔

سنہ 2000 کی دہائی سے روس اب تک آٹھ بوری کلاس جوہری آبدوزیں تیار کر چکا ہے، جن میں تازہ ترین آبدوز "کنیاژ پوزارسکی” گزشتہ برس لانچ کی گئی۔ مزید دو آبدوزیں زیرِ تعمیر ہیں۔

گزشتہ ماہ پوتن نے کہا تھا کہ یہ آبدوزیں جدید "بولاوا” بیلسٹک میزائلوں سے لیس ہیں، جن کی رینج تقریباً 8,000 کلومیٹر (تقریباً 4,970 میل) تک ہے۔

فی الحال روس دنیا کا واحد ملک ہے جو جوہری توانائی سے چلنے والے آئس بریکرز کے ایک مکمل بیڑے کا مالک ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین