بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیڈچ وزیرِ خارجہ نے اسرائیل پر پابندیوں کے تنازع پر استعفیٰ دے...

ڈچ وزیرِ خارجہ نے اسرائیل پر پابندیوں کے تنازع پر استعفیٰ دے دیا
ڈ

ایمسٹرڈیم (مشرق نامہ) – ہالینڈ کے وزیرِ خارجہ کاسپار ویلڈکیمپ نے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر کابینہ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ویلڈکیمپ، جو مرکزِ دائیں بازو کی نیو سوشیل کنٹریکٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے جمعے کو کہا کہ وہ "معنی خیز اقدامات” پر کابینہ میں اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے اور موجودہ پابندیوں کے حوالے سے بھی اپنے ساتھی وزراء کی سخت مزاحمت کا سامنا کر رہے تھے۔

وزیرِ خارجہ کی کوششوں میں دائیں بازو کے انتہا پسند اسرائیلی وزراء بیزالیل اسموٹریچ اور ایتمار بن گویر پر داخلے کی پابندیاں عائد کرنا شامل تھا۔ انہوں نے ان وزراء پر فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی سلسلے میں ویلڈکیمپ نے بحری جہاز کے پرزوں کے لیے تین ایکسپورٹ پرمٹ بھی منسوخ کر دیے اور خبردار کیا کہ غزہ میں حالات بگڑ رہے ہیں اور یہ پرزے "ناپسندیدہ مقاصد” کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

ویلڈکیمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ
میں غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی دیکھ رہا ہوں، غزہ سٹی پر حملے، مغربی کنارے میں آبادکاری E1 کے متنازعہ منصوبے کی منظوری اور مشرقی بیت المقدس میں ہونے والی پیش رفت سب میرے سامنے ہیں۔

ویلڈکیمپ کے استعفے کے بعد نیدرلینڈز فی الحال بغیر وزیرِ خارجہ کے رہ گیا ہے، ایسے وقت میں جب یورپی یونین یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں پر غور کر رہی ہے اور امریکا کے ساتھ محصولات پر مذاکرات جاری ہیں۔

ویلڈکیمپ کے فیصلے کے بعد نیو سوشیل کنٹریکٹ پارٹی کے تمام وزراء اور ریاستی سیکریٹریز نے ان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نگران حکومت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پارلیمانی دباؤ اور کابینہ میں اختلافات

الجزیرہ کی نمائندہ اسٹیپ ویسن کے مطابق ویلڈکیمپ کو پارلیمنٹ میں قانون سازوں، خاص طور پر اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت پابندیوں کے مطالبے پر بڑھتے دباؤ کا سامنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ویلڈکیمپ نے چند ہفتے قبل دو اسرائیلی وزراء پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن غزہ سٹی پر اسرائیلی حملوں کے بعد مطالبات میں اضافہ ہوتا گیا کہ ڈچ حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنے چاہییں۔

رپورٹ کے مطابق ویلڈکیمپ نے یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان موجود تجارتی معاہدے کی معطلی کے لیے بھی دباؤ ڈالا تھا، لیکن جرمنی کے اعتراضات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اس صورتحال پر ڈچ پارلیمان کے ارکان کا مؤقف تھا کہ نیدرلینڈز کو اب یورپی پابندیوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسرائیل پر خود مختارانہ طور پر پابندیاں عائد کرنی چاہییں۔

اسرائیل-یورپ تعلقات اور ایف-35 کا معاملہ

اگرچہ نیدرلینڈز نے اسرائیل کے خلاف محدود نوعیت کی پابندیاں لگائی ہیں، لیکن ملک اب بھی اسرائیلی فضائیہ کے ایف-35 جنگی طیاروں کے سپلائی چین کا حصہ ہے۔

فلسطینی یوتھ موومنٹ کی جانب سے جون میں الجزیرہ کو فراہم کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ایف-35 کے پرزہ جات لے جانے والے جہاز اکثر روٹرڈیم کی بندرگاہ پر آتے ہیں، جو ڈنمارک کی شپنگ کمپنی مَیرسک کے زیرِ انتظام ہے۔

یہی ایف-35 جنگی طیارے اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جن کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کی بڑی حد تک تباہی اور 62,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں ہفتے کے اوائل میں نیدرلینڈز نے مزید 20 ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں نئی آبادکاری کے بڑے منصوبے کی منظوری کو "ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی” قرار دیا تھا۔

ادھر اسرائیل کی غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے باعث ہزاروں شہری غزہ سٹی سے جنوبی علاقوں کی جانب ہجرت پر مجبور ہیں۔ دریں اثنا ایک عالمی بھوک مانیٹر نے جمعے کو تصدیق کی کہ غزہ سٹی اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے رہائشی سرکاری طور پر قحط کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

فی الحال ویلڈکیمپ کے جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ نگران ڈچ حکومت، جو 3 جون کو پچھلی اتحادی حکومت کے ٹوٹنے کے بعد قائم ہوئی تھی، نئے عام انتخابات تک برقرار رہے گی۔ انتخابات اکتوبر میں متوقع ہیں، تاہم نئی حکومت سازی کا عمل کئی ماہ تک کھنچ سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین