بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی محکمہ دفاع میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں

امریکی محکمہ دفاع میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروزی سمیت دو دیگر سینیئر فوجی کمانڈرز کو برطرف کر دیا ہے۔ تین امریکی عہدیداروں نے جمعے کو رائٹرز کو تصدیق کی کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پینٹاگون میں اعلیٰ عہدیداروں کی تازہ ترین "صفائی” کا حصہ ہے۔

ہیگستھ کے فیصلے کے تحت امریکی نیول ریزرو کے سربراہ اور نیول اسپیشل وارفیئر کمانڈ کے کمانڈر کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ تینوں عہدیداروں کے مطابق برطرفیوں کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب چیئرمین سینیٹر مارک وارنر نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک اور سینیئر نیشنل سکیورٹی عہدیدار کی برطرفی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ "انٹیلی جنس کو ملک کے تحفظ کے بجائے وفاداری کا امتحان” بنا رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی مسلسل برطرفیاں

یہ برطرفیاں ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کا تسلسل ہیں جن کے تحت اُن فوجی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے حکام کو ہدف بنایا جا رہا ہے جن کے مؤقف صدر ٹرمپ سے متصادم سمجھے جاتے ہیں۔

اپریل میں صدر ٹرمپ نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے ڈائریکٹر جنرل ٹموتھی ہو کو عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے ساتھ وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ایک درجن سے زائد عملے کو بھی برطرف کیا گیا تھا۔

اسی طرح فروری میں وزیرِ دفاع ہیگستھ نے امریکی فضائیہ کے جنرل سی کیو براؤن کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، ساتھ ہی پانچ دیگر ایڈمرلز اور جرنیلوں کو بھی ایک غیر معمولی اقدام کے تحت برطرف کر دیا گیا تھا۔

رواں ہفتے امریکی فضائیہ کے سربراہ نے بھی اپنی مدتِ ملازمت مکمل ہونے سے پہلے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا۔

ایران پر حملے کی خفیہ رپورٹ تنازع کا مرکز

اگرچہ جیفری کروزی کی برطرفی کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں، تاہم یہ فیصلہ ایک ابتدائی خفیہ رپورٹ کے لیک ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 22 جون کو ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں سے تہران کا پروگرام صرف چند ماہ کے لیے متاثر ہوا ہے۔ یہ دعویٰ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے متصادم تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اہداف "مکمل طور پر تباہ” کر دیے گئے۔

یہ خفیہ رپورٹ میڈیا میں آنے پر صدر ٹرمپ شدید برہم ہو گئے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو "سراسر غلط” قرار دیا تھا جبکہ ٹرمپ نے سی این این، نیویارک ٹائمز اور دیگر اداروں کو "جعلی خبر دینے والے” اور "گھٹیا” کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سکیورٹی کلیئرنسز کی بڑے پیمانے پر منسوخی

کروزی کی برطرفی کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گیبرڈ نے صدر ٹرمپ کے حکم پر 37 موجودہ اور سابق امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں کے سکیورٹی کلیئرنسز منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ منسوخیاں ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں ہونے والے درجنوں اقدامات کا تسلسل ہیں، جن میں سابق صدر جو بائیڈن اور سابق نائب صدر کمالا ہیرس کے سکیورٹی کلیئرنسز بھی شامل ہیں۔

اس ہفتے گیبرڈ نے اپنے ادارے میں 40 فیصد عملے کی کمی کے ساتھ ایک بڑے ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کے ذریعے یکم اکتوبر تک سالانہ 700 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین