بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیچین میں کاربن اخراج میں کمی، نئی تحقیق کی رپورٹ

چین میں کاربن اخراج میں کمی، نئی تحقیق کی رپورٹ
چ

بیجنگ (مشرق نامہ) – چین نے دنیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں نئی توانائی کے منصوبے سب سے تیز رفتار پر لگائے ہیں، اور اب اس سرمایہ کاری کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں چین کے کاربن اخراج میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ کمی مارچ 2024 سے شروع ہونے والے رجحان کا تسلسل ہے۔

تحقیق کے مطابق، چین میں گرین ہاؤس گیسز کے سب سے بڑے شعبے یعنی بجلی پیداوار کے سیکٹر سے ہونے والے اخراج میں بھی اس مدت کے دوران 3 فیصد کمی آئی ہے ـ

کاربن اخراج میں ممکنہ عروج

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، چین کا کاربن اخراج شاید اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے اور یہ پیش رفت حکومت کے طے شدہ ہدف سے کہیں پہلے حاصل کرلی گئی ہے، کیونکہ بیجنگ نے اس سے قبل 2030 تک اخراج میں کمی کے عروج کو نشانہ بنایا تھا۔

ماضی میں چین میں کاربن اخراج میں کمی عموماً معاشی سست روی کے دوران دیکھی گئی تھی، مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔ تحقیق کے مطابق، بجلی کی طلب میں اس سال کے پہلے نصف میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن شمسی، ہوائی اور جوہری توانائی کی فراہمی نے اس طلب کو بآسانی پورا کرلیا ہے، جس کی وجہ سے اخراج میں کمی ممکن ہوئی۔

تحقیق کے مصنف، لاری میلویورتا، جو فن لینڈ میں مقیم ہیں، نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہم چین میں کاربن اخراج کے ساختی طور پر کمی کے رجحان کی بات کر سکتے ہیں۔

ریکارڈ سطح پر شمسی توانائی کی تنصیب

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چین نے 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 212 گیگاواٹ شمسی توانائی کی گنجائش نصب کی، جو 2024 کے اختتام تک امریکا کی مجموعی تنصیب شدہ گنجائش (178 گیگاواٹ) سے بھی زیادہ ہے۔

چین میں شمسی توانائی اب ہائیڈرو پاور سے آگے نکل گئی ہے

رواں سال کے اختتام تک ہوائی توانائی کو بھی پیچھے چھوڑ کر چین میں سب سے بڑی صاف توانائی کا ذریعہ بننے کی توقع ہے

جنوری سے جون 2025 کے درمیان 51 گیگاواٹ ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں

کاربن غیرجانبداری کا ہدف

ماہرین کے مطابق، اگر چین کو اپنے 2060 تک کاربن غیرجانبداری کے ہدف تک پہنچنا ہے تو اسے آئندہ 35 برسوں میں اوسطاً ہر سال کم از کم 3 فیصد اخراج میں کمی لانی ہوگی۔

لاری میلویورتا، جو کہ سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے چیف تجزیہ کار ہیں، نے کہا کہ چین کو جتنا جلد ہوسکے سالانہ 3 فیصد کمی کے ہدف تک پہنچنا ہوگا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین