غزه (مشرق نامہ) – 22 ماہ کے اسرائیلی نسل کُشی کے بعد غزہ کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں، سینکڑوں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ امداد پر پابندی اور محصور خاندان ناقابلِ بیان کرب سے گزر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے تعاون سے قائم انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) نے پہلی بار غزہ شہر میں باضابطہ طور پر قحط کا اعلان کردیا ہے۔ یہ عالمی نظام 2004 سے بھوک اور غذائی بحران کی نگرانی کر رہا ہے اور اس نے اب تک صرف چار بار باضابطہ طور پر قحط کا اعلان کیا ہے، جس میں تازہ ترین اعلان گزشتہ برس سوڈان کے لیے کیا گیا تھا۔
اگرچہ اس سے قبل IPC نے غزہ میں قحط کے خطرے کی وارننگ دی تھی، لیکن مستند اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث رسمی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ موجودہ اعلان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تقریباً 5 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ شہر اب سخت قحط کے معیار پر پورا اترتا ہے:
کم از کم 20 فیصد گھرانے انتہائی شدید غذائی قلت کا شکار
30 فیصد بچے سنگین غذائی کمی میں مبتلا
روزانہ فی 10 ہزار افراد میں دو اموات براہِ راست بھوک سے
IPC کی یہ بریفنگ سیو دی چلڈرن، آکسفیم اور یونیسیف سمیت دیگر شراکت دار تنظیموں کے ساتھ شیئر کی گئی، جس کے مطابق قحط کا اثر غزہ گورنریٹ کے پورے علاقے پر پڑ رہا ہے، جس میں غزہ شہر، تین نواحی قصبے اور کئی پناہ گزین کیمپ شامل ہیں۔
بھوک، تباہی اور موت
IPC کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 22 ماہ کے مسلسل تنازعے کے بعد غزہ پٹی میں پانچ لاکھ سے زائد افراد قحط، تباہی اور موت جیسے تباہ کن حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قحط کا دائرہ دیر البلح اور خانیونس تک پھیلنے کا امکان ہے، جو ستمبر کے آخر تک مزید بڑے پیمانے پر انسانی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
غزہ کے 10 لاکھ 70 ہزار اضافی رہائشی پہلے ہی "ایمرجنسی” درجے کی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جو اس بحران کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے۔
اسرائیلی جارحیت اور انسانی بحران
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر غزہ کی ابتر انسانی صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تنقید بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی دباؤ اور اندرونی اختلافات کے باوجود، نیتن یاہو نے غزہ شہر پر بڑے حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے شہر کے مضافات میں ٹھکانے قائم کر لیے ہیں، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر شہریوں کی بے دخلی شروع ہوچکی ہے۔ اس کارروائی کے لیے 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلبی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
انسانی اثرات اور اموات میں اضافہ
IPC نے پیش گوئی کی ہے کہ اگست کے وسط سے ستمبر کے آخر تک غزہ میں غذائی صورتحال مزید خراب ہوگی، جہاں تقریباً 6 لاکھ 41 ہزار افراد قحط کے بدترین حالات میں پہنچ جائیں گے جبکہ "ایمرجنسی” درجے پر موجود افراد کی تعداد بڑھ کر 11 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق بھوک کے باعث اب تک 271 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 112 بچے بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیلی نسل کشی کے 22 ماہ میں ہلاکتوں کی تعداد 62,192 تک جا پہنچی ہے۔
اسرائیل پر عالمی دباؤ
"اسرائیل” پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ غزہ میں خوراک کی رسائی ممکن بنائے۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ایک بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے، خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے حوالے سے۔
ادھر اسرائیلی قابض افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ طبی حکام اور عالمی اداروں کو پہلے ہی متنبہ کردیا گیا ہے کہ غزہ شہر کے باشندوں کے منصوبہ بند انخلا کی تیاری کریں۔ جنوبی غزہ کے پہلے سے ہی دباؤ کا شکار اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ "آنے والے مریضوں کے لیے گنجائش پیدا کرنے کے اقدامات” کریں۔

