یروشلم (مشرق نامہ) – اسرائیل کے وزیر برائے عسکری امور نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے ہتھیار ڈالنے سمیت اسرائیل کی شرائط قبول نہ کیں تو غزہ شہر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔
یہ دھمکی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اسرائیلی افواج غزہ شہر پر بڑے پیمانے کی فوجی یلغار کی تیاری کر رہی ہیں، جہاں اس وقت قریباً دس لاکھ بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اس ممکنہ حملے سے قحط، تباہی اور انسانی المیے کی موجودہ صورتحال مزید بگڑ جائے گی، جسے پہلے ہی "ناقابلِ تصور” قرار دیا جا چکا ہے۔
جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اسرائیل کاتس نے کہا کہ:جلد ہی غزہ میں دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے جب تک کہ حماس جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل کی شرائط، بالخصوص تمام یرغمالیوں کی رہائی اور تحریک کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے، پر رضامند نہ ہو۔
انہوں نے مزید دھمکی دی کہ اگر حماس نے مطالبات نہ مانے تو "غزہ، جو حماس کا دارالحکومت ہے، رفتہ اور بیت حانون کی طرح ملبے کا ڈھیر بن جائے گا”۔ یہ دونوں علاقے پہلے ہی اسرائیلی افواج کی تقریباً دو سالہ نسل کشانہ جنگ میں تباہ کیے جا چکے ہیں۔
غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی فوجی قیادت نے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ایک اور بڑے پیمانے پر جبری ہجرت کا خدشہ ہے، جبکہ پہلے ہی ہزاروں خاندان خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کے باعث موت کے دہانے پر ہیں۔
امدادی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ پر اسرائیلی محاصرہ بچوں کے لیے "جنگ” بن چکا ہے، اور صرف غزہ شہر میں ہر تین میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
یرغمالیوں پر مذاکرات اور جنگ بندی کی پیشکش
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کی رات کہا کہ انہوں نے "تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری مذاکرات” کا حکم دے دیا ہے، تاہم یہ بات بھی واضح کی کہ مذاکرات کی شرائط اسرائیل کی مرضی کے مطابق ہوں گی۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری کوششوں کے ساتھ ساتھ غزہ شہر پر قبضے کے لیے فوجی یلغار بھی آگے بڑھے گی۔ تاہم نیتن یاہو نے ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تازہ ترین جنگ بندی کی تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جسے حماس نے اس ہفتے کے آغاز میں قبول کر لیا تھا۔
بدھ کو حماس نے جس تجویز پر اتفاق کیا، اس میں 60 روزہ جنگ بندی، آدھے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے متعدد فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے اقدامات شامل تھے، جس سے دو سالہ جنگ کا اختتام ممکن ہو سکتا ہے۔
قطر کے مطابق یہ تجویز تقریباً وہی ہے جو امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے پیش کی تھی، اور جس پر اسرائیل نے پہلے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم ثالثی فریقین اب بھی اسرائیل کے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں۔
انسانی بحران کی سنگین صورتحال
اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد سے متعلق ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ "بھیانک انسانی نتائج” کا سبب بنے گا، کیونکہ مقامی آبادی پہلے ہی تھکن، بھوک، بیماری اور تباہی کے باعث بدترین حالات کا سامنا کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کی اچانک کارروائی "آپریشن طوفان الاقصیٰ” کے بعد غزہ کے خلاف اپنی نسل کشانہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف کئی دہائیوں پر محیط قتل و غارت کے جواب میں کی گئی تھی۔
اب تک جاری اسرائیلی حملوں میں 62 ہزار 190 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

